جہلم: ضلعی انتظامیہ کا چیک اینڈبیلنس کا نظام مفلوج ہونے کی وجہ سے ہوٹلزز اور ریسٹورنٹ مالکان نے ضلع بھر میں خود ساختہ مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے۔ عام شہریوں سمیت مقامی محنت مزدوری کرنے والے سفید پوش افراد کو ریلیف دینے کی بجائے خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔
جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں قائم ہوٹلوں اور ریسٹو رنٹ مالکان نے اپنے طور پر اشیاء خوردونوش کے نرخ مقرر کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے ، جس کے وجہ سے ہوٹلز ،و،ریسٹورنٹ سے وابستہ عام شہریوں کو جن میں محنت مزدوری کر کے دال روٹی کھا کے نظام زندگی بسر کرنے والوں سمیت سفید پوش افراد کی مشکلات میں اضافہ کر رکھا ہے۔
ضلع بھر میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام مفلوج ہونے کی وجہ سے ہوٹلز انتظامیہ نے اپنی مرضی کے نرخ مقرر کر کے لوٹ مار کا بازار گرم کر رکھا ہے ، شہر سمیت جی ٹی روڈ پر واقع ہوٹلز وریستوران مالکان نے خود ساختہ مہنگائی کا طوفان پر پا کیا ہوا ہے، جو مقامی افراد سمیت جی ٹی روڈ پر سفر کرنے والے مسافروں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں۔
اس طرح سادہ روٹی 50روپے میں فروخت کی جارہی ہے ،جبکہ نان جس کا سرکاری طور پر نرخ 20 روپے مقرر ہے، وہ بھی50 روپے میں فروخت کیا جارہا ہے ، چکن ہانڈی 1800روپے سلاد 200روپے مٹن ساڑھے تین ہزار روپے رایتہ 200روپے اسی طرح مالکان نے لوٹ مار کی نئی تاریخ رقم کر رکھی ہے ۔ ایسے میں سفید پوش افراد کی قوت خرید جواب دے گئی ہے۔مقامی انتظامیہ کا کنٹرول نہ ہونے کی وجہ سے ہوٹلز اور ریسٹورنٹ مالکان نے ضلع بھر میں خود ساختہ مہنگائی کا طوفان برپا کر رکھا ہے۔
عام شہریوں سمیت ضلع بھر سے آئے ہوئے محنت مزدوری کرنے والے محنت کشوں کو ریلیف دینے کی بجائے خود ساختہ مہنگائی کرنے والوں کے رحم کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ اس طرح شہر سمیت جی ٹی روڈ پر قائم ہوٹلوں اور ریسٹو رنٹ مالکان نے اپنے طور پر اشیاء خوردونوش کے ریٹ مقرر کر رکھے ہیں۔
شہریوں نے وزیر اعلی پنجاب ،چیف سیکرٹری پنجاب سمیت متعلقہ ذمہ داران سے نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔


