پنڈدادنخان شہر میں صفائی کے لیے تعینات نجی ویسٹ مینجمنٹ کمپنی شہریوں کو ریلیف دینے کی بجائے آلودگی میں اضافے کا سبب بننے لگی ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ کمپنی کی ناقص حکمت عملی اور غیر ذمہ دارانہ رویہ شہر میں صفائی کی صورتحال کو مزید ابتر کر رہا ہے۔
جہلم کی تحصیل پنڈدادنخان سے اکٹھا کیا گیا کوڑا کرکٹ پہلے گراؤنڈ سے ملحقہ سلاٹر ہاؤس اور گرلز کالج کے قریب واقع ڈمپنگ پوائنٹ پر جمع کیا جاتا ہے، بعد ازاں اسے بغیر کسی حفاظتی ڈھانپ کے ڈمپر میں لوڈ کر کے شہر سے گزارا جاتا ہے۔
کھیوڑہ روڈ پر وزن کروانے کے بعد یہی ڈمپر واپس شہر سے گزرتے ہوئے دوبارہ کچرا سڑکوں پر گراتے ہوئے اسی ڈمپنگ پوائنٹ پر واپس آتے ہیں، جس سے شہر میں شدید فضائی اور ماحولیاتی آلودگی پیدا ہو رہی ہے۔
شہریوں نے الزام عائد کیا ہے کہ مقامی انتظامیہ کی جانب سے نجی کمپنی کو کھلی چھوٹ دی گئی ہے، جبکہ کئی روز گزرنے کے باوجود نہ تو کمپنی کے ایس او پیز عوام کے سامنے لائے گئے ہیں اور نہ ہی اس کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو شفاف رکھا گیا ہے۔
عوامی، سماجی اور تعلیمی حلقوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم میثم عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر اس صورت حال کا نوٹس لیں اور نجی کمپنی کو صفائی اور کوڑا کرکٹ کی منتقلی کے لیے طے شدہ ایس او پیز پر سختی سے عملدرآمد کروائیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر جلد اقدامات نہ کیے گئے تو شہر میں ماحولیاتی اور صحت کے حوالے سے سنگین مسائل جنم لے سکتے ہیں، جس کی تمام تر ذمہ داری متعلقہ اداروں اور کمپنی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔


