برطانیہ کے ویزا قواعد میں سختی؛ ملازمت پیشہ افراد کے لیے نئے قوانین کیا ہیں؟

برطانوی حکومت غیر ملکی تارکین وطن کے لیے برطانیہ میں آ کر کام کرنے اور رہائش اختیار کرنے کے قوانین کو تبدیل اور مزید سخت کر رہی ہیں۔

برطانیہ میں سال 2022 کے دوران 745000 ریکارڈ تارکین وطن افراد کی آمد کے بعد وزرا پر قانونی طور پر امیگریشن پالیسی کو سخت کرنے کے لیے دباؤ ڈالا گیا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم رشی سونک نے برطانیہ نقل مکانی کر کے آنے والے غیر ملکی تارکین وطن کے سرکاری اعداد و شمار پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ ’تعداد بہت زیادہ ہے۔‘

اب نئے امیگریشن قوانین کیا ہیں؟

گیٹی امیجز

برطانیہ میں کام کرنے کے خواہشمند زیادہ تر لوگوں کو اب بھی پوائنٹس پر مبنی نظام یعنی پوائنٹس بیس سسٹم (پی بی ایس) کے ذریعے ویزا کے لیے درخواست دینا ہو گی۔

تاہم 2024 کے موسم بہار سے انھیں ورک ویزا حاصل کرنے کے لیے پہلے سے زیادہ تنخواہ کے ساتھ ساتھ نوکری کی پیشکش ہونا بھی ضروری ہو گا۔

اب نئے قوانین کے تحت برطانیہ میں غیر قانونی تارکین وطن کی کم از کم آمدن 38700 پاؤنڈ سالانہ ہونی چاہیے جو پہلے کم از کم 26200 پاؤنڈ سالانہ تھی۔

تاہم اس کا اطلاق صحت کے شعبے اور سماجی خدمت کے شعبے کی نوکریوں پر نہیں ہو گا۔ لیکن اس شعبے میں کام کرنے والے غیر ملکی تارکین وطن افراد کو اب اپنے خاندان کے افراد کو برطانیہ لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

پوائنٹس سسٹم پہلی بار لیبر حکومت نے 2008 میں اپنایا تھا، جب اس کا اطلاق غیر یورپی یونین ممالک سے آنے والے تارکین وطن پر ہوتا تھا۔ اس کے بعد بریگزٹ ووٹ کے بعد کنزرویٹو نے اس میں تبدیلیاں کی تھی۔

برطانیہ میں امیگریشن سے متعلق موجودہ پوائنٹس پر مبنی نظام جس میں یورپی ممالک اور غیر یورپی ممالک کے تارکین وطن شامل ہے سنہ 2020 کے اواخر میں نافذ کیا گیا تھا۔

پوائنٹس بیس سسٹم کام کیسے کرتا ہے؟

برطانیہ کی امیگریشن کے خواہشمند غیر ملکی درخواست دہندگان کو ہنر مند ورکر ویزا حاصل کرنے کے لیے کافی پوائنٹس کی ضرورت ہوتی ہے۔

تمام درخواست دہندگان کو کم از کم مہارت کی سطح سے زیادہ اور انگریزی زبان بولنے میں مہارت کے ابتدائی 50 پوائنٹس حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔

بقیہ 20 پوائنٹس تنخواہ کے مجموعے سے حاصل ہو سکتے ہیں، مثلاً ایسے شعبے جہاں ملازمین کی قلت ہے یا متعلقہ شعبے میں پی ایچ ڈی کی ڈگری ہولڈر ہونا سے پوائنٹس حاصل ہو سکتے ہیں۔

ہنر مند ویزا کی معیاری فیس عام طور پر 719 سے 1,500 پاؤنّڈ کے درمیان ہوتی ہے اور درخواست دہندگان کو اپنے قیام کے ہر سال کے لیے 624 پاؤنڈ کا ہیلتھ کیئر سرچارج بھی ادا کرنا پڑتا ہے۔

ہیلتھ سرچارج اب بڑھ کر 1,035 پاؤنڈ سالانہ ہو جائے گا۔

ملازمین کی کمی والے شعبے کون سے ہیں؟

آجروں کو بعض کرداروں کو پورا کرنے میں مدد کرنے کے لیے ایک ’ملازمین کی کمی والے شعبوں کی فہرست‘ موجود ہے۔

ان ملازمتوں میں کم از کم تنخواہ کی حد ہوتی ہے، جس سے درخواست دہندگان کے لیے ویزا حاصل کرنے کے لیے مطلوبہ تعداد میں پوائنٹس حاصل کرنا آسان ہو جاتا ہے۔

فی الحال اس فہرست میں یہ ملازمتیں شامل ہیں:

  • صحت اور تعلیم کے شعبے میں ملازمتیں
  • دیکھ بھال کے کارکنوں کی ملازمتیں
  • گرافک ڈیزائنرز
  • تعمیراتی مزدور
  • جانوروں کے ڈاکٹر

آجر ان عہدوں کو پُر کرنے کے لیے غیر ملکی افراد کو مروجہ ریٹ سے 20 فیصد کم تنخواہ دیتے تھے تاہم اگلے برس موسم بہار سے اسے ختم کر دیا جائے گا۔
لیبر پارٹی نے اس اقدام کو’تنخواہ میں رعایت‘ قرار دیتے ہوئے تنقید کا نشانہ بنایا تھا جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ آجروں کو مقامی اجرتوں میں کمی کرنے کی اجازت دی گئی۔

موسم بہار 2024 سے نگہداشت کے شعبے میں کام کرنے والے غیر ملکی افراد کو اپنے ساتھ خاندان کے زیر کفالت افراد کو لانے کی اجازت نہیں ہو گی۔

حکومت کا کہنا ہے کہ وہ ملازمین کی کمی والے شعبوں کی فہرست کا بھی جائزہ لے گی اور اس کی تعداد کو بھی کم کرے گی۔

فیملی ویزوں کا کیا ہو گا؟

حکومت 2024 کے موسم بہار سے فیملی ویزا پر خاندان کے افراد کو برطانیہ لانے والوں کی کم از کم آمدنی 38,700 پاؤنڈ سالانہ تک بڑھا رہی ہے۔

فی الحال مطلوبہ کم از کم آمدنی 18,600 پاؤنڈ ہے۔

ایک اندازے کے مطابق جون 2023 کو ختم ہونے والے سال میں 70,000 افراد فیملی ویزا پر برطانیہ آئے۔

برطانیہ میں آنے والے تارکین وطن کی تعداد کیا ہے؟

جون 2023 میں ختم ہونے والے مالی سال میں کم از کم 11 لاکھ 80 ہزار افراد برطانیہ میں ایک سال کے قیام کی غرض سے آئے تھے اور ایک اندازے کے مطابق پانچ لاکھ آٹھ ہزار واپس چلے گئے تھے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ آنے اور جانے والے لوگوں کی تعداد میں فرق چھ لاکھ 72 ہزار لوگوں کا ہے اور یہ وہ لوگ تھے جو برطانیہ میں نقل مکانی کر کے آنے اور مستقل قیام کی غرض سے برطانیہ پہنچے۔

سنہ 2022 میں نقل مکانی کرنے والے افراد کی تعداد خاصی زیادہ یا ایک ریکارڈ حد کو چھوتی دکھائی دی جو کہ سات لاکھ 45 ہزار تک تھی۔

برطانیہ پہنچنے والے زیادہ تر افراد کا تعلق یورپی یونین سے باہر کے ممالک سے تھا۔

تازہ ترین اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ 968،000 غیر یورپی ممالک سے آئے تھے۔

او این ایس کے اعلامیے کے مطابق غیر یورپی تارکین وطن کے آنے کی بنیادی وجہ تعلیم (39 فیصد) تھا، اس کے بعد کام (33 فیصد) اور انسانی وجوہات (نو فیصد) تھیں۔

سرفہرست پانچ غیر یورپی ممالک یہ تھے:

  • انڈیا:253000
  • نائجیریا: 141000
  • چین: 89000
  • پاکستان: 55000
  • یوکرین: 35000

کورونا وبا کے دوران سرکاری امیگریشن ڈیٹا جمع کرنے میں مُشکلات کا سامنا کرنا پڑا تھا اور اعداد و شمار جمع کرنے کے طریقہ کار میں کافی تبدیلیاں آئی ہیں۔

سنہ 2022 میں برطانیہ میں مجموعی تارکین وطن کی تعداد 7 لاکھ 45 ہزار تک پہنچ گئی۔

برطانیہ میں کتنے طالب علم آتے ہیں؟

ستمبر 2023 کے اختتام تک 12 ماہ میں حکومت نے 4 لاکھ 86 ہزار 107 سٹڈی ویزے جاری کیے۔

ان میں سے نصف انڈین اور چینی شہریوں کو دیے گئے تھے۔

نائجیریا سے تعلق رکھنے والے طالب علم سٹوڈنٹ ویزا ہولڈرز میں سب سے زیادہ عام قومیت تھے، اس کے بعد پاکستان اور امریکہ کا نمبر آتا ہے۔

پوسٹ گریجویٹ کورسز کے طالب علم کوالیفائنگ ڈیپنڈنٹ کے لیے ویزا کے لیے بھی درخواست دے سکتے ہیں: شوہر، بیوی، سول یا غیر شادی شدہ پارٹنر اور 18 سال سے کم عمر کے کسی بھی بچے اس میں شامل ہیں۔

ستمبر 2023 میں ختم ہونے والے سال میں ایک لاکھ 52 ہزار 980 افراد کو ویزے جاری کیے گئے۔

لیکن جنوری 2024 سے حکومت بین الاقوامی طالب علموں کے لیے زیر کفالت افراد کو بلانے کے حق کو ختم کر دے گی جب تک کہ وہ تحقیقی پروگراموں کے طور پر نامزد پوسٹ گریجویٹ کورسز میں نہ ہوں۔

وہ طلباء جنھوں نے پہلے ہی اپنی ڈگری مکمل کرلی ہے وہ گریجویٹ ویزا کے تحت کام کرنے کے لیے دو سال (ڈاکٹریٹ کی ڈگری رکھنے والوں کے لیے تین سال) تک برطانیہ میں رہ سکتے ہیں۔ ستمبر 2023 کے آخر تک 104,501 ایسے ویزے جاری کیے گئے، جن میں زیر کفالت افراد شامل نہیں تھے۔

مزدوروں کے بارے میں کیا قوانین ہیں؟

عارضی کارکنوں جیسے پھل چننے والے اور پولٹری ورکرز کو سیزنل ورکر ویزا کے تحت شامل کیا جاتا ہے۔

2023 اور 2024 کے لیے 45،000 سے 55،000 کے درمیان سیزنل ورکر ویزے دستیاب ہیں، اس کے علاوہ پولٹری ورکرز کے لیے مزید 2،000 بھی دستیاب ہیں۔

ایک درخواست کی فیس 298 پاؤنڈ ہے۔ مزدوروں کو کم از کم اجرت پر ادائیگی کی جانی چاہیے۔

بریگزٹ نے امیگریشن کو کس طرح تبدیل کیا ہے؟

بریگزٹ سے قبل یورپی یونین اور برطانیہ کے شہریوں کو ورک ویزا کی ضرورت کے بغیر یورپی یونین کے کسی بھی ملک میں رہنے، کام کرنے یا تعلیم حاصل کرنے کی آزادی تھی۔

تاہم، نقل و حرکت کی یہ آزادی یکم جنوری 2021 کو ختم ہو گئی۔

جون 2023 تک 12 مہینوں میں، یورپی یونین سے 86 ہزار افراد نے نقل مکانی کی تھی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ یورپی یونین کے زیادہ شہریوں نے برطانیہ چھوڑ دیا۔

غیر یورپی یونین کے شہریوں کی مجموعی نقل مکانی، یعنی آنے اور جانے والوں کے درمیان فرق 768،000 کا تھا۔

برطانوی شہریوں کی مجموعی نقل مکانی کے اعداد و شمار 10،000 ریکارڈ کیے گئے۔ تاہم واپسی سے زیادہ لوگوں نے برطانیہ چھوڑا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button