جہلم: پنجاب حکومت نے مختلف نوعیت کے ای اسٹامپ پیپرز اور بیانِ حلفی اسٹامپ پیپرز کی فیسوں میں نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے۔
نئے نوٹیفکیشن کے مطابق عام شہریوں اور پراپرٹی سے وابستہ افراد پر اضافی مالی بوجھ پڑنے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔
بیان حلفی کے لیے استعمال ہونے والے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 300 روپے کر دی گئی ہے۔ اسی طرح پراپرٹی سیلز ایگریمنٹ کے لیے استعمال ہونے والے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 1200 روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے۔
پراپرٹی کے علاوہ کسی بھی معاہدے کے لیے استعمال ہونے والے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 500 روپے کر دی گئی ہے جبکہ 5 لاکھ روپے تک مالیت کے معاہدے کے لیے فیس 1200 روپے سے بڑھا کر 3 ہزار روپے مقرر کی گئی ہے۔ 5 لاکھ روپے سے 10 لاکھ روپے تک کے معاہدوں پر اسٹامپ فیس میں مزید 3 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد مالیت کے معاہدوں کے لیے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر کی فیس میں 20 ہزار روپے کا اضافہ کیا گیا ہے۔ طلاق کے لیے استعمال ہونے والے اسٹامپ پیپر کی فیس 100 روپے سے بڑھا کر 1 ہزار روپے مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ پاور آف اٹارنی کے ای اسٹامپ پیپر کی فیس 1500 روپے سے بڑھا کر 1800 روپے کر دی گئی ہے۔
شہریوں اور قانونی حلقوں نے اسٹامپ فیسوں میں اس بھاری اضافے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت اس فیصلے پر نظرِ ثانی کرے، کیونکہ اس سے عام آدمی بالخصوص غریب اور متوسط طبقہ شدید متاثر ہو رہا ہے۔


