جہلم: چیئرمین سینیٹ یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ پیپلزپارٹی کی مسلم لیگ ن سے صلح ہوگئی ہے،کسی کی خواہش پر وفاقی کابینہ کا حصہ نہیں بن سکتے، وفاقی کابینہ میں شمولیت کا فیصلہ پارٹی کرے گی،ملک میں فوجی آپریشن کی ماضی میں بھی ضرورت تھی اب بھی ہے، ماضی میں دہشتگردی کے خاتمے کےلئے آپریشن کے اقدامات کو بہت سراہا گیا تھا۔
جہلم میں پیر پشاوری کے سالانہ عرس کے موقع پر میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے رہنماءپاکستان پیپلزپارٹی نے کہا کہ میڈیا والے پیچھے رہ گئے ہیں وہ اس بار نیوز نہیں بناسکے ن لیگ نے پیپلز پارٹی کے تحفظات دور کردئیے ہیں، اور دونوں جماعتوں کی صلح ہوگئی ہے۔پاکستان پیپلزپارٹی دھمکی دینے والی جماعت نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ہم اس وقت حکومت کا حصہ نہیں ہیں لیکن ان کی ہر ممکن مدد کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی معاشی صورت حال کو کنٹرول کرنے کےلئے اپناکردار ادا کر رہی ہے تاکہ حکومت مضبوط ہواورمعیشت کی بہتری کیلئے مل جل کر اقدامات کئے جائیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ ملک مضبوط ہواس لئے حکومت کا ساتھ دے رہے ہیں اور مستقبل میں بھی ایسا ہی ساتھ دیتے رہیں گے۔ہمیں پنجاب میں بہتر ماحول ملے گا تو مستقبل کیلئے بہتر فیصلے کریں گے۔ نئی پارٹیاں بنتی ہیں تو بنیں ہماری کسی پارٹی کیلئے کوئی رائے نہیں ہے۔
یوسف رضا گیلانی نے گفتگو کرتے ہوئے مزید کہا کہ ماضی کے آپریشن میں متاثر ہونے والے 20 لاکھ افراد آج بھی کیمپوں میں موجود ہیں۔ ماضی میں سوات، ملاکنڈ میں آپریشن کے سوا چارہ نہیں تھا۔دہشت گردی کے خاتمے کیلئے آپریشن کے اقدام کو ہمیشہ سراہا ماضی کے 20 لاکھ آپریشن متاثرین کیمپوں میں موجود ہیں۔ سی پیک اور چین پر پی ٹی آئی سمیت تمام جماعتیں متحد ہیں۔خیبرپختونخوا کے کچھ لوگ وفاقی حکومت کو دھمکیاں دیتے ہیں اس پرنو کمنٹس۔


