جہلم کی 2 قومی اور3 صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر جوڑ توڑ فیصلہ کن مراحل میں داخل

جہلم: ضلع جہلم کی دو قومی اور تین صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر جوڑ توڑ کا مرحلہ فیصلہ کن مراحل میں داخل ہو گیا۔

جہلم کی5 نشستوں پر پارٹی ٹکٹوں سے محروم رہنے والے امیدوار آپس میں پینل تشکیل دینے کی تگ و دو میں مصروف جبکہ متعدد امیدوار بڑے امیدواروں کے حق میں دستبردار ہونا شروع ہو گئے۔ واضح اور نمایاں پوزیشن اگلے دو تین روز میں واضح ہو کر سامنے آئے گی۔

مسلم لیگ (ن) کے سابق ایم این اے نوابزادہ مطلوب مہدی کے بھائی راجہ طالب مہدی نے بھی مطلوب مہدی کو ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد حیثیت میں حلقہ این اے 61 سے عام انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیاہے ۔

اسی طرح صوبائی حلقہ پی پی 24 میں سابق ایم پی اے راجہ اویس خالد نے مسلم لیگ ن کا ٹکٹ نہ ملنے کی وجہ سے آزاد حیثیت سے الیکشن میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا اور اپنی انتخابی مہم شروع کر دی ہے جبکہ سابق ایم پی اے چوہدری لال حسین ،سابق ایم پی اے مہر محمد فیاض نے پارٹی کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے از خود الیکشن سے دستبردار ہوگئے تھے ۔

پاکستان تحریک انصاف کا پینل حلقہ این اے 60، این اے 61 اور صوبائی نشستوں صرف ایک نشست حلقہ پی پی 24 پر سامنے آیا ہے جبکہ پاکستان تحریک انصاف اب تک (خبر شائع ہونے تک) حلقہ پی پی 25 اور 26 پر تاحال امیدواروں کے ناموں کا اعلان نہ کر سکی۔

مسلم لیگ ن نے ضلع جہلم کی صوبائی اسمبلی پی پی 24 کے حلقے میں مسلم لیگ ن کے کسی امیدوار کو ٹکٹ جاری نہیں کیا، اس طرح پاکستان تحریک انصاف کے سابق ایم پی اے راجہ یاور کمال جو آئی پی پی کا حصہ بنے کی حمایت کا اعلان کررکھا ہے۔

پاکستان پیپلز پارٹی، جماعت اسلامی اور تحریک لبیک پاکستان نےبھی اپنے پینل مکمل کر لئے ہیں.

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button