Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: جہلم میں نجی ہسپتالوں اور کلینکس کی بندش، POS نظام کے خلاف پی ایم اے کے تحفظات سامنے آگئے
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

جہلم میں نجی ہسپتالوں اور کلینکس کی بندش، POS نظام کے خلاف پی ایم اے کے تحفظات سامنے آگئے

چوہدری عابد محمود
چوہدری عابد محمود
30 ستمبر, 2026
شیئر کریں
شیئر کریں

جہلم: پاکستان میڈیکل ایسوسی ایشن (PMA) ضلع جہلم کی جانب سے ایف بی آر کے اقدامات، پوائنٹ آف سیل (POS) نظام اور نجی طبی اداروں سے متعلق ٹیکس پالیسی کے خلاف ضلع بھر میں نجی کلینکس اور ہسپتالوں کی بندش کے بعد ٹیکس نظام میں مساوات اور پالیسی کے طریقہ نفاذ کے حوالے سے مختلف حلقوں میں بحث جاری ہے۔

پی ایم اے کا موقف ہے کہ صحت کی خدمات بنیادی انسانی اور عوامی خدمت سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے انہیں محض ریٹیل کاروبار کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔ ایسوسی ایشن نے نجی ہسپتالوں اور کلینکس پر POS نظام کے نفاذ، بھاری جرمانوں اور ٹیکس حکام کے اقدامات پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

گزشتہ روز ایک پُرہجوم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پی ایم اے ضلع جہلم کے صدر ڈاکٹر ساجد علی ڈوگہ نے کہا کہ ڈاکٹرز اور طبی ادارے پہلے ہی مختلف نوعیت کے ٹیکسز اور اخراجات کا بوجھ برداشت کر رہے ہیں، ایسے میں POS نظام اور جرمانوں کے ذریعے مزید دباؤ ڈالنے سے صحت کے شعبے کے مسائل میں اضافہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ نجی طبی شعبہ حکومت کا متبادل نہیں بلکہ صحت عامہ کے نظام میں ایک اہم کردار ادا کر رہا ہے، اس لیے ٹیکس پالیسی مرتب کرتے وقت زمینی حقائق، مریضوں کے مسائل اور طبی شعبے کی نوعیت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے۔

ڈاکٹر ساجد علی ڈوگہ نے کہا کہ طبی خدمات کو دیگر کاروباری سرگرمیوں کے برابر رکھ کر ٹیکس پالیسی کا نفاذ مناسب نہیں۔ حکومت اور ایف بی آر کو چاہیے کہ طبی تنظیموں کے نمائندگان کے ساتھ بامقصد مذاکرات کیے جائیں اور ایسے قابلِ عمل طریقۂ کار پر اتفاق کیا جائے جس سے قومی خزانے کو ریونیو بھی حاصل ہو اور مریضوں کو علاج معالجے کی سہولیات بھی متاثر نہ ہوں۔

اس موقع پر پرائیویٹ ہسپتال سیکٹر کے ضلعی صدر ڈاکٹر تفسیر حسین گوندل نے کہا کہ نجی ہسپتال اور کلینکس پہلے ہی بجلی، ادویات، طبی آلات، عملے کی تنخواہوں اور دیگر بڑھتے ہوئے اخراجات کے باعث شدید مالی دباؤ کا شکار ہیں۔ ایسے حالات میں POS نظام کے ساتھ بھاری جرمانوں اور پیچیدہ ٹیکس قواعد کا نفاذ نجی طبی اداروں کے لیے مزید مشکلات پیدا کر رہا ہے، جس کا بالواسطہ اثر مریضوں پر بھی پڑ سکتا ہے۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ ایف بی آر اور متعلقہ حکام طبی شعبے کے نمائندگان کو اعتماد میں لے کر ٹیکس پالیسی پر نظرثانی کریں اور ایسا شفاف، آسان اور قابلِ عمل نظام تشکیل دیں جو ڈاکٹرز اور طبی اداروں کے لیے قابلِ قبول ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس وصولی ضروری ہے، تاہم اس کے لیے ایسا طریقہ اختیار کیا جائے جس میں شعبۂ صحت کو صرف کاروباری ریٹیل سیکٹر کے طور پر دیکھنے کے بجائے اس کی عوامی خدمت کی حیثیت کو بھی ملحوظِ خاطر رکھا جائے۔

دوسری جانب عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر حکومت ٹیکس نیٹ کو وسیع اور نظام کو منصفانہ بنانا چاہتی ہے تو تمام بڑے شعبوں کو یکساں اصولوں کے تحت ٹیکس نظام میں لایا جانا چاہیے۔ ان حلقوں کے مطابق عام شہری، چھوٹے تاجر اور کاروباری طبقہ مختلف نوعیت کے ٹیکس ادا کر رہا ہے، لہٰذا نجی شعبے میں کام کرنے والے بڑے ہسپتالوں، کلینکس اور تشخیصی لیبارٹریوں کے ساتھ ساتھ نجی سکولوں، کالجوں اور مختلف شہروں میں قائم ان کے برانچ نیٹ ورک کو بھی قانون کے مطابق ٹیکس نظام میں مؤثر طور پر شامل کیا جانا چاہیے۔

عوامی حلقوں کا مزید کہنا ہے کہ ٹیکس کا اصول کسی ایک شعبے تک محدود نہیں ہونا چاہیے بلکہ آمدن اور کاروباری سرگرمی کی نوعیت کے مطابق یکساں، شفاف اور قابلِ عمل ٹیکس پالیسی ہونی چاہیے، تاکہ ٹیکس کا بوجھ صرف محدود طبقات یا عام شہریوں تک محدود نہ رہے اور قومی خزانے میں زیادہ سے زیادہ ریونیو جمع ہو سکے۔

ان حلقوں کے مطابق اگر نجی طبی اداروں یا دیگر شعبوں کے لیے ٹیکس اور POS سے متعلق قواعد نافذ کیے جاتے ہیں تو حکومت کو نجی تعلیمی اداروں سمیت دیگر بڑے سروس سیکٹرز کے لیے بھی واضح، یکساں اور شفاف ٹیکس فریم ورک وضع کرنا چاہیے، تاکہ ٹیکس نظام میں مساوات، شفافیت اور عوامی اعتماد کو فروغ دیا جا سکے۔

واضح رہے کہ ایف بی آر کی جانب سے POS اور ڈیجیٹل نظام کا مقصد ٹیکس نظام میں دستاویز بندی اور ریونیو بیس کو وسیع کرنا بتایا گیا ہے، جبکہ متعلقہ شعبوں کے نمائندگان نظام کے بنیادی مقصد کے بجائے اس کے طریقۂ نفاذ، جرمانوں اور عملی مشکلات پر اعتراضات اٹھا رہے ہیں۔

طبی حلقوں کا مطالبہ ہے کہ معاملے کو محض ٹیکس وصولی کے تناظر میں دیکھنے کے بجائے مذاکرات اور باہمی مشاورت کے ذریعے ایسا متوازن حل نکالا جائے جس میں قومی ریونیو کے مفاد کے ساتھ مریضوں کو فراہم کی جانے والی طبی سہولیات اور ڈاکٹرز و طبی اداروں کے جائز تحفظات کو بھی یکساں اہمیت حاصل ہو۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
23°C
Jhelum
clear sky
23° _ 23°
60%
جمعرات
35 °C
جمعہ
36 °C
ہفتہ
37 °C
اتوار
37 °C
پیر
38 °C

تازہ ترین

منگلا پاور سٹیشن کی بحالی، پیداواری صلاحیت 1310 میگاواٹ تک بڑھانے کا منصوبہ
30 ستمبر, 2026
دینہ میں زمین کے تنازع پر بااثر افراد کا غریب محنت کش نوجوان پر تشدد
30 ستمبر, 2026
ڈسٹرکٹ پبلک سکول جہلم میں بچوں کے لیے نئی سہولت کا اضافہ، ای سی ایل روم کا افتتاح
30 ستمبر, 2026
پنڈدادنخان کے علاقے ہرن پور سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والا اسپیشل نوجوان بازیاب
30 ستمبر, 2026
پنڈدادنخان میں آشنا کے ساتھ مل کر شوہر کو قتل کرنے والی بیوی کو عمر قید، آشنا کو سزائے موت سنا دی گئی
30 ستمبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

حکومت کا 300 یونٹ تک بجلی استعمال کرنیوالے صارفین کیلئے بڑا اعلان

26 فروری, 2025

بلڈنگ میٹریل کی قیمتیں تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں

28 اکتوبر, 2023

بدلتے موسم کے ساتھ مائیں بچوں کو زیادہ ٹھنڈا پانی پینے سے روکیں، ڈاکٹر نعیم غفار

15 اکتوبر, 2023

حکومت بجلی، تیل اور تنخواہ دار طبقوں پر ٹیکس سے پیسہ کما رہی ہے، فواد چوہدری

3 اگست, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں