لندن: پاکستان میں تباہ کن سیلاب کے ایک سال بعد برطانوی ایم پی افضل خان نے متاثرہ کمیونٹیز کا دورہ کیا اور کلائیمٹ جسٹس کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
اپنے اس دورے میں مانچسٹر گورٹن کے ایم پی نے سیلاب سے متاثرہ فیملیز سے ملاقات کی اور اسلامک ریلیف کے کام کا جائزہ لیا، جو شروع سے ہی ہیومنٹیرین رسپانس میں شروع سے ہی سب سے آگے تھی، جس نے 1 اعشاریہ 5ملین افراد کو خوراک، پانی، سینی ٹیشن اور نقد واؤچرز کی فراہمی سمیت لائف سیونگ سپورٹ پہنچائی۔
سال 2022 میں سیلاب سے ہونے والی اس تباہی میں 3 اعشاریہ 3لین سے زائد افراد متاثر ہوئے اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان اور معاشی نقصانات پر 30بلین ڈالر کی لاگت آئی اور زندگیوں کی تباہی جاری ہے۔
🌏 The floods in #Pakistan last year left a devastating impact on communities.
We're grateful to host @Afzal4Gorton recently, as he visited Islamic Relief's projects, witnessing firsthand the efforts of rebuilding homes for flood-affected communities.
🔗 https://t.co/ywx5puNyrb pic.twitter.com/La65yZIzmj
— Islamic Relief UK (@IslamicReliefUK) October 12, 2023
ایک سال بعد اسلامک ریلیف نے اب تک متاثرہ افراد کیلئے 6420 مستقل مکانات دوبارہ تعمیر کئے اور 2010میں آنے والے سیلاب کے بعد اسلامک ریلیف نے گزشتہ سال بھی تباہی کو برداشت کرنے کے بعد ان کو دوبارہ تعمیر کیا۔ یہ چیرٹی لوگوں کی تعمیرنو، سکولوں اور ہیلتھ کلینکس کو سپورٹ کرنے کی تربیت کے علاوہ خواتین کو سپورٹ کی فراہمی، صاف پانی اور سولر انرجی یونٹس کی تقسیم کے ساتھ ساتھ لیٹرین بھی فراہم کر رہی ہے۔
ایم پی افضل خان نے جن علاقوں کا دورہ کیا، ان میں سے ایک سندھ کا دادو تھا، جہاں ایک چھوٹے گاؤں میں اسلامک ریلیف سیلاب سے متاثرہ 77فیملیز کیلئے گھروں کی تعمیر نو کر رہی ہے۔ مانچسٹر ایم پی نے سکول کے منصوبوں اور صاف پانی کے پروگراموں کے علاوہ دیگر دیہات کا بھی دورہ کیا۔
اسلامک ریلیف کی ایک حالیہ رپورٹ میں یہ اندازہ لگایا گیا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اب 40 فیصد بچے نشوونما میں رکاوٹ کے شکار ہیں کیونکہ فیملیزکو فوڈ اینڈ ہیلتھ کیئر تک رسائی کیلئے مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جبکہ 80فیصد ماؤں نے بچوں میں بیماری کی اطلاع دیی ہے۔ اسہال، ملیریا اور ڈینگی بخار کے پھیلاؤ میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ایم پی افضل خان سی بی ای اپنے اس دورے میں پاکستان میں سیلاب اور خشک سالی کی شدت کے ساتھ ماحولیاتی تبدیلیوں سے کمیونٹیز پر پڑنے والے اثرات کو اجاگر کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ انہوں نے حل پر مبنی پارٹنر شپ پر تبادلہ خیال کیلئے احمد عرفان اسلم (وفاقی وزیر برائے کلائیمیٹ چینج اینڈ انوائرمنٹل کوآرڈی نیشن) اور شیری رحمٰن (سابق وفاقی وزیر برائے کلائیمیٹ چینج اینڈ انوائرمنٹ) سے بھی ملاقات کی۔
چیرٹی اسلامک ریلیف پاکستان پر زور دے رہی ہے کہ وہ کلائیمٹ فنانسنگ میں اضافہ کی ترجیح دے کیونکہ یہ کلائیمیٹ چینج کے منفی اثرات والے سب سے زیادہ خطرناک ملکوں میں سے ایک ہے جبکہ دنیا کا چھٹا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہونے کے باوجود یہ گلوبل ایمیشن کے صرف88 فیصد کیلئے ذمہ دار ہے جو کہ امریکہ کے فی کس اخراج کے آٹھویں حصے سے بھی کم اور برطانیہ کا ایک تہائی ہے۔
اس دورے میں افضل خان نے یہ بھی دیکھا کہ کس طرح کمیونٹیز ایک دوسرے کی مدد کیلئے اکٹھی ہو رہی ہیں اور وہ پاکستان کیلئے برطانوی عوام کے فراخدلانہ عطیات سے بھی متاثر ہوئے ہیں، جس نے زندگی بچانے اور تعمیر نو کے منصوبوں کو ممکن بنانے میں مدد کی ہے۔
ایم پی افضل سی بی ای نے کہا کہ میں نے یہاں آنے کے بعد دیکھا کہ لوگ متحد ہو کر کس طرح اور کتنا کام کر رہے ہیں۔ اپنے پیاروں کو کھونے والوں کو اکٹھا کر رہے اور انہیں امید دلا رہے ہیں۔ وہ اپنے مستقبل کی تعمیر نو کر رہے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ کمزور کمیونٹیز پر کلائیمٹ کرائسس کے اہم اثرات کو بھی اجاگر کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم سے میں جو لوگ برطانیہ جیسی جگہوں پر ہیں ان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی حکومت سے کلائیمٹ ایمرجنسی کی صورت حال سے نمٹنے کیلئے مزید کام کرنے کا مطالبہ کریں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ پاکستان جیسے ملکوں کو کلائیمٹ فنانسنگ دی جائے جو کلائیمیٹ کرائسس کے سب سے کم ذمہ دار ہیں لیکن اس سے سب سے زیادہ متاثر ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم اس بہترین کام پر اسلامک ریلیف کے شکر گزار ہیں اور ان تمام لوگوں کا بھی شکریہ، جنہوں نے اس کو ممکن بنانے کیلئے عطیات دیئے۔


