Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: میری حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے؛ حسینہ واجد
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

میری حکومت کے خاتمے میں امریکا کا ہاتھ ہے؛ حسینہ واجد

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
11 اگست, 2024
شیئر کریں
شیئر کریں

ڈھاکا: طلبا کی احتجاجی تحریک کے نتیجے میں مستعفی ہونے اور بھارت میں پناہ لینے والی بنگلا دیش کی سابق وزیراعظم حسینہ واجد کا دھڑن تختہ ہونے کے بعد پہلا بیان سامنے آگیا۔

بھارتی میڈیا کے مطابق شیخ حسینہ واجد نے اپنے 15 سالہ اقتدار کے خاتمے کا ذمہ دار امریکا کو ٹھہراتے ہوئے کہا کہ ایئربیس قائم کرنے کیلئے سینٹ مارٹن جزیرہ امریکا کو نہ دینا میرا جرم بنا دیا گیا۔

سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے مزید کہا کہ اگر میں استعفیٰ نہ دیتی تو مجھے لاشوں کا جلوس دیکھنا پڑتا۔ وہ لاشوں پر اقتدار حاصل کرنا چاہتے تھے لیکن میں نے اس کی اجازت نہیں دی۔
شیخ حسینہ واجد نے اپنے ہم وطنوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ شدت پسندوں کے بہکاوے میں نہ آئیں۔

یہ بیان دراصل شیخ حسینہ واجد کا مستعفی ہونے سے قبل قوم سے کی جانے والی تقریر پر مبنی تھا جو انہیں کرنے نہیں دی گئی تھی کیونکہ مشتعل مظاہرین ان کے گھر پر پہنچ گئے تھے اور ملک کے سیکورٹی افسران نے وزیراعظم کو جلد سے جلد وہاں سے نکل جانے کا مشورہ دیا تھا۔

تاہم اب بھارت میں شیخ حسینہ واجد نے کچھ لوگوں سے اپنی اُس نہ ہو پانے والی تقریر کے مندرجات پر گفتگو کی ہے اور این ڈی ٹی وی نے تحریری تقریر کے مندرجات دیکھے اور آج اپنی رپورٹ میں شائع کیے جو درج ذیل ہیں۔

حکومت گرانے میں امریکا کا ہاتھ ہے

76 سالہ شیخ حسینہ کی تقریر کا سب سے اہم حصہ وہ یے جس میں انھوں نے امریکا پر الزام لگایا ہے کہ وہ ملک میں طلبا تحریک اور مشتعل مظاہرین کے ذریعے حکومت کی تبدیلی کی سازش کر رہا ہے۔

شیخ حسینہ نے دعویٰ کیا کہ بنگلا دیش اور میانمار کے کچھ علاقوں کو ملا کر ایک نیا “عیسائی ملک” بنانے کی سازش ہورہی ہے جس کے لیے امریکا نے سینٹ مارٹن جزیرہ مانگا تاکہ اپنا ایئربیس بنانا چاہتا تھا لیکن میں نے ملک کی خودمختاری کو داؤ پر نہیں لگایا اور جزیرہ دینے سے انکار کردیا تھا۔

حسینہ واجد نے کہا کہ اگر میں کسی خاص ملک کو بنگلا دیش میں ایئربیس بنانے کی اجازت دیتی تو میرے اقتدار کو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا۔

شیخ حسینہ کے بقول جنوری میں ہونے والے الیکشن پر امریکا کی جانب سے دھاندلی کے الزامات اور غیر منصفانہ قرار دینے کو بھی قومی سلامتی کے منافی قرار دیا۔

یاد رہے کہ سینٹ مارٹن جزیرے کا رقبہ صرف 3 مربع کلومیٹر ہے اور یہ خلیج بنگال کے شمال مشرقی حصے میں واقع ہے۔

اقتدار اور ملک نہ چھوڑتی تو مزید خوں ریزی ہوتی

حسینہ واجد نے مستعفی ہونے اور ملک چھوڑنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے اپنی تقریر میں کہنا تھا کہ اگر میں ایسا نہ کروں تو ملک میں مزید خون بہے گا لیکین امید مت چھوڑیں میں جلد واپس آؤں گی۔

شیخ حسینہ نے کہا کہ مجھے وقتی طور پر شکست ہوئی ہے لیکن بنگلا دیش کے لوگ جیت گئے وہ لوگ جیت گئے جن کے لیے میرے والد اور میرا پورا خاندان قربان ہوگیا تھا۔ عوامی لیگ ہر بحران کے بعد کھڑی ہوئی ہے۔

طلبا کو رضاکار نہیں کہا

شیخ حسینہ واجد کی نہ ہونے والی تقریر میں طلبا احتجاجی تحریک کے دوران اپنے ریمارکس کہ اگر مکتی باہنی کے اولادوں کو کوٹا نہیں ملے گا تو کیا رضاکاروں کو ملے گا کی وضاحت بھی کی۔

حسینہ واجد نے یہ واضح کیا کہ انہوں نے احتجاج کرنے والے طلبا کو کبھی بھی رضاکار نہیں کہا بلکہ آپ (طلبا) کو اکسانے کے لیے میرے الفاظ کو توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔ میری طلبا سے درخواست ہے کہ پوری ویڈیو دیکھیں۔

یاد رہے کہ 1971 میں سقوط ڈھاکا کے وقت عوامی لیگ کی جانب سے پاکستانی فوج کے حامیوں کو رضاکار کہا جاتا تھا اور جب یہ لفظ حسینہ واجد نے طلبا مظاہرین کے لیے استعمال کیا تو اس کا شدید ردمل سامنے آیا۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
21°C
Jhelum
clear sky
21° _ 21°
69%
3 km/h
جمعرات
31 °C
جمعہ
31 °C
ہفتہ
32 °C
اتوار
34 °C
پیر
34 °C

تازہ ترین

جہلم میں سنگھوئی کے قریب دو موٹرسائیکلوں میں تصادم، 2 نوجوان جاں بحق،16 سالہ لڑکا زخمی
14 اکتوبر, 2026
سوہاوہ: ڈومیلی میں ضمانت دینے کی رنجش پر بااثر شخص نے میاں بیوی کو مبینہ تشدد کا نشانہ بنا ڈالا
13 اکتوبر, 2026
جہلم میں مرغی کے گوشت کی من مانے نرخوں پر فروخت، کم وزن اور صفائی کے ناقص انتظامات پر شہری پریشان
13 اکتوبر, 2026
ضلع جہلم میں صفائی ستھرائی کا نظام مزید منظم اور موثر بنانے کے لیے اقدامات پر غور
13 اکتوبر, 2026
سوہاوہ کی حدود میں پاکستان پوسٹ کے 16 برانچ پوسٹ آفس بند، سابقہ 45 ماہ کے اعزازیہ معاوضے تاحال واجب الادا
13 اکتوبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

پہلگام واقعہ؛ ایران نے پاک بھارت کشیدگی پر ثالثی کی پیشکش کردی

26 اپریل, 2025

یو اے ای نے درہم اور ڈیجیٹل کرنسی کا نیا’ لوگو’ جاری کردیا

28 مارچ, 2025

برطانیہ: تارکین وطن مزدوروں کیلئے متعارف اسکیم استحصال کا سبب بن گئی

16 نومبر, 2023

وہ بہت بوڑھا اور صدر بننے کیلیے نااہل ہے؛ 81 سالہ جوبائیڈن کا 77 سالہ ٹرمپ پر طنز

18 مارچ, 2024

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں