سات قسم کے ویزے جو غیرملکیوں کو امارات میں قیام کی اجازت دیتے ہیں

متحدہ عرب امارات کے ہوم ڈیپارٹمنٹ کا کہنا ہے’ امارات آنے والے غیرملکیوں کےلیے سات قسم کے ویزے کی سہولت موجود ہے جن سے طلبا اور ریٹائرڈ افراد بھی مستفیض ہوسکتے ہیں‘۔

امارات الیوم کے مطابق حکومتی ادارے کا کہنا ہے ’امارات آنے والے غیرملکیوں کے لیے قانونی طور پر رہائشی پرمٹ ’اقامہ ‘حاصل کرنا ضروری ہے‘۔

اقامہ کی سات اقسام مختلف پیشوں اورطبقوں کے لیے فراہم کی گئی ہے جن میں ورک ویزا ، سٹوڈنٹ ویزا، ریٹائرڈ افراد کے لیے ویزا ، فیملی ویزا، گولڈن اقامہ، آن لائن ورک ویزا ، بزنس ویزا اوراہل خانہ کے لیے ویزا شامل ہیں۔

طویل المدتی ویزے پرآنے والے غیرملکیوں کو امارات میں سرمایہ کاری اور تعلیم کی سہولت فراہم کی جاتی ہے جس کے لیے کسی سپانسر کی ضرورت نہیں ہوتی۔

طویل المدتی ویزہ سرمایہ کاروں، تاجربرادری ، علوم وفنون میں ماہرافراد، فرنٹ لائن پرکام کرنے والے اورشعبہ تعلیم میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا شامل ہیں جنہیں طویل المدتی اقامہ یعنی گولڈن اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔

ورک ویزے کی بھی تین اقسام ہیں جن میں پہلی قسم نارمل ورک ویزا ، گرین اقامہ اورتیسری قسم معاون ورکرز کی ہے جو سرکاری ، نجی شعبے یا فری زون میں خدمات انجام دیتے ہیں۔

گرین اقامہ ماہرکارکنوں کو پانچ برس کےلیے جاری کیا جاتا ہے جبکہ گھروں میں کام کرنے والے افراد کو معاون ورک ویزے جاری کیے جاتے ہیں۔

ایسے غیرملکی جو آن لائن بیرون امارات کام کرتے ہیں انہیں بھی امارات میں رہنے کےلیے اقامہ جاری کیا جاتا ہے۔ اس نوعیت کے اقامہ کی مدت ایک برس ہوتی ہے۔

ریٹائرڈ افراد جن کی عمر 55 برس سے زیادہ ہے ان کے لیے بھی خصوصی اقامہ پانچ برس کےلیے جاری کرایا جاسکتا ہے۔

سربراہ خانہ کا اقامہ ایکسپائر ہوتے ہی اہل خانہ کا اقامہ بھی ایکسپائرسمجھا جائے گا

بزنس اقامہ حاصل کرنے کے خواہشمندوں کو اگروہ کسی منصوبے میں سرمایہ کاری یا شراکت داری کرنا چاہیں تو انہیں بھی پانچ برس کے لیے اقامہ جاری کیا جاسکتا ہے جو گرین اقامہ کہلاتا ہے۔

امارات میں پڑھائی کرنے والے طلبا کے لیے ضروری ہے کہ ان کے اہل خانہ امارات میں ہوں یا امارات کی کوئی ایک یونیورسٹی ان کی ضمانت فراہم کرے۔

تعلیم کے میدان میں نمایاں پوزیشن حاصل کرنے والے طلبا کے لیے خصوصی طورپر 10 برس کا اقامہ جاری کیا جاتا ہے جو مقررہ شرائط پرپورا اترتے ہوں۔

ایسے غیرملکی جو امارات میں ملازمت کرتے ہوں یا سرمایہ کار ہوں اورقانونی اقامہ رکھتے ہوں وہ اپنے اہل خانہ کے لیے اقامہ جاری کرا سکتے ہیں جس کے لیے کم از کم تنخواہ 4000 درھم ہونی چاہیے یا اگرکسی کی تنخواہ 3000 درہم ہے تو اسے رہائش کا ثبوت فراہم کرنا ہوگا۔

سربراہ خانہ کا اقامہ ایکسپائریا ان کی ضمانت ختم ہوتے ہی اہل خانہ کا اقامہ بھی ایکسپائرسمجھا جائے گا۔ اگراقامہ ہولڈر مسلسل 180 دن امارات سے باہر رہتا ہے تو اسکا اقامہ کینسل ہوجاتا ہے۔ قانون کی یہ شق گولڈ اقامہ ہولڈرز پرلاگو نہیں ہوتی وہ جتنی دیر چاہیں امارات سے باہر رہ سکتے ہیں۔

بیوہ یا مطلقہ اوران کے بچوں کے لیے ایک برس کا اقامہ بغیر کسی ضمانت کے جاری کیا جاتا ہے۔ اس کا اطلاق بیوگی یا طلاق کی تاریخ سے ہو گا یہ اقامہ ایک ہی بار تجدید کرایا جاسکتا ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button