غزہ میں عمارت پر اسرائیلی بمباری، ایک ہی خاندان کے 76 افراد ہلاک

غزہ میں میں امدادی سرگرمیوں میں مصروف اہلکاروں نے بتایا ہے کہ اسرائیلی فورسز کے حملے میں غزہ میں ایک ہی خاندان کے 76 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ حملہ اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس کے اس بیان کے ایک دن ہوا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ غزہ میں کوئی بھی جگہ محفوظ نہیں ہے۔

انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ اسرائیلی کے مسلسل حملوں کی وجہ سے امدادی سرگرمیوں میں ’بڑی رکاوٹیں‘ پیدا ہو رہی ہیں۔

غزہ میں محکمہ شہری دفاع کے ترجمان محمود بسال نے کہا کہ جمعے کو غزہ کی اس عمارت پر ہونے والا اسرائیلی حملہ 12 ہفتوں سے جاری اس جنگ کے بدترین حملوں میں سے ایک تھا۔
محمد بسال نے اس حملے میں ہلاک ہونے والوں کی ایک جزوی فہرست بھی فراہم کی جس میں المغربی خاندان کے 16 گھروں کے سرپرستوں کے نام شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے اور خواتین بھی ہیں۔

اس حملے میں ہلاک ہونے والوں میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سے وابستہ عصام المغربی، ان کی بیوی اور پانچ بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے ڈویلپمنٹ پروگرام کے سربراہ ایچم سٹینر نے کہا کہ ’عصام اور ان کے خاندان کے نقصان نے ہم سب کو گہرا صدمہ پہنچایا ہے۔ غزہ میں عام شہری اور اقوام متحدہ کے اہلکاروں کو ہدف نہیں بنایا چاہیے۔ یہ جنگ ختم ہونی چاہیے۔‘

جنگ 12 ہفتے سے جاری ہے

واضح رہے کہ اسرائیل نے سات اکتوبر کو سرحد پار سے حماس کے عسکریت پسندوں کے حملے کے بعد جنگ کا اعلان کیا تھا جس میں تقریباً 12 سو اسرائیلی ہلاک جبکہ تقریباً 240 کو یرغمال بنایا گیا۔

اسرائیل نے اس عزم کیا تھا کہ وہ غزہ سے حماس کے خاتمے اور تمام یرغمالیوں کو رہا کروانے تک جنگ جاری رکھے گا۔

اب تک اسرائیل کے حملوں کے نتیجے میں20 ہزار سے زائد فلسطینی ہلاک جبکہ 53 ہزار سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔

حملے میں اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام سے وابستہ عصام المغربی، ان کی بیوی اور پانچ بچے بھی ہلاک ہوئے(فائل فوٹو: اے ایف پی)

اسرائیل نے حماس کو بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتوں کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے اس گروپ کی جانب سے پرہجوم رہائشی علاقوں کو فوجی مقاصد کے لیے استعمال کرنے اور شہری علاقوں کے نیچے سرنگیں بنانے کا ذکر کیا ہے۔

امدادی سرگرمیوں کے لیے قرارداد

جمعے کواقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے قرارداد منظور کی جس میں غزہ میں مایوس شہریوں کو فوری طور پر امداد کی فراہمی میں تیزی لانے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

دوسری جانب اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے انسانی بنیادوں پر جنگ بندی کے اپنے دیرینہ مطالبے کا اعادہ کیا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ جمعے کی قرارداد سے ایسا ہونے میں مدد مل سکتی ہے لیکن انہوں نے کہا کہ غزہ کے لوگوں کے لیے جاری ’خوفناک خواب‘ کو ختم کرنے کے لیے ’فوری طور پر مزید بہت کچھ کی ضرورت ہے۔‘

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button