جہلم: ڈرائیونگ ٹیسٹ موت کے کنویں میں چلنے والی گاڑی، ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے آنے والے 16امیدوار ٹریفک پولیس کے شعبہ لائسنسنگ برانچ نے ہر امیدوار سے گاڑی ٹیسٹ کے فی امیدوار 500 روپے وصول کرلیے، ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کیلئے آنے والے امیدوار سراپا احتجاج ہیں۔
تفصیلات کے مطابق جہلم میں ٹریفک پولیس لائسنسنگ برانچ کے ذمہ داران نے موٹر کار کے حصول کے لیے ٹیسٹ دینے والے امیدواروں سے فی امید وار 500 روپے وصول کرنے شروع کر رکھے ہیں۔
ٹیسٹ کے لیے آنے والے امیدواروں نے میڈ یا نمائندگان سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ شعبہ لائسنسنگ برانچ کے ذمہ داران نے ڈرائیونگ ٹیسٹ کے لیے جو مہران گاڑی پولیس لائن میں کھڑی کر رکھی ہے نہ تو اس کی بریک کام کرتی ہے اور نہ ہی گیرکام کرتا ہے۔
امیدواروں نے بتایا کہ مکینکل گاڑی میں درجنوں نقص موجود ہیں لیکن لائسنسنگ برانچ کا عملہ گاڑی کا کام کروانے کی بجائے ڈنگ ٹپاؤ مال بناؤ پالیسی پر گامزن ہے جو کہ حصول لائسنس کے لیے آنے والے نوجوانوں کے ساتھ سخت زیادتی کے مترادف ہے۔
نوجوانوں نے ڈی آئی جی ٹریفک پولیس مرزا فاران بیگ اور ڈی پی او جہلم ناصر محمود باجوہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ٹریفک پولیس کے شعبہ لاسنسنگ برانچ کے ذمہ داران کو گاڑی کی دیکھ بال اور ڈرائیونگ ٹیسٹ کی فیس 500 روپے وصول کرنے کی بجائے غیر معمولی کمی کی جائے تاکہ بے روزگار نوجوان ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کے بعد اپنے ضعیف العمر والدین اور بہن بھائیوں کے لیے رزق حلال کما سکیں۔


