دینہ: ضلع جہلم کی تحصیل دینہ میں یونین کونسل لدھڑ کو تقسیم کرکے نئی یونین کونسل سلطان پور قائم کیے جانے پر پنڈوروی اور دیگر ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں میں تحفظات پائے جا رہے ہیں۔
معروف سیاسی و سماجی شخصیت راجہ حسن اختر آف پنڈوری نے اہلیانِ علاقہ کی نمائندگی کرتے ہوئے اس فیصلے پر نظرِ ثانی کا مطالبہ کیا ہے اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے اپیل کی ہے کہ یونین کونسلوں کی تشکیل اور انتظامی تقسیم کے دوران عوامی مشکلات، جغرافیائی صورتحال، آبادی اور آمدورفت کی سہولیات کو بنیادی اہمیت دی جائے، تاکہ شہریوں کو روزمرہ سرکاری امور کی انجام دہی میں مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
راجہ حسن اختر آف پنڈوری نے ہمارے نمائندے سے ٹیلی فونک گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یونین کونسل لدھڑ کی تقسیم کے بعد سلطان پور کو نئی یونین کونسل کا مرکز بنانے سے پنڈوروی اور دیگر ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کے لیے مشکلات پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔ ان کے مطابق سلطان پور ان علاقوں کے متعدد رہائشیوں کی پہنچ سے دور واقع ہے، جس کے باعث یونین کونسل کے دفتر تک رسائی، ضروری دستاویزات کے حصول اور دیگر سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے لوگوں کو اضافی سفر کرنا پڑے گا۔
انہوں نے بتایا کہ سلطان پور کی آبادی تقریباً 2 ہزار 300 افراد پر مشتمل ہے، جبکہ دوسری جانب پنڈوروی اور دیگر ملحقہ دیہات کی مجموعی آبادی تقریباً 10 ہزار افراد بتائی جاتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یونین کونسل کے مرکز کے تعین میں آبادی کے تناسب اور لوگوں کی سہولت کو بھی مدنظر رکھا جانا چاہیے، تاکہ زیادہ سے زیادہ شہریوں کو سرکاری خدمات تک آسان رسائی حاصل ہو سکے۔
راجہ حسن اختر کے مطابق سلطان پور جانے کے لیے کینٹ کے علاقے سے گزرنا پڑتا ہے، جس سے بعض مقامی رہائشیوں کے لیے آمدورفت مزید مشکل ہو سکتی ہے۔ علاقے میں ایسے افراد بھی موجود ہیں جو سائیکل پر یا پیدل سفر کرتے ہیں۔ بالخصوص بزرگوں، کم آمدنی والے شہریوں اور ان افراد کے لیے، جنہیں پیدائش، اموات، نکاح، رہائشی اندراج اور دیگر ضروری دستاویزات کے حصول کے لیے بار بار یونین کونسل کے دفتر جانا پڑتا ہے، فاصلہ اور سفری سہولیات ایک اہم مسئلہ بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انتظامی یونٹس کی تشکیل کا بنیادی مقصد عوام کو ان کی دہلیز پر سہولیات فراہم کرنا اور سرکاری معاملات کو آسان بنانا ہوتا ہے۔ اگر یونین کونسل کا مرکز متعلقہ آبادیوں سے دور ہو اور وہاں تک پہنچنے کے لیے مناسب سفری سہولیات میسر نہ ہوں تو عوام کو ریلیف دینے کے بجائے ان کی مشکلات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
راجہ حسن اختر کا کہنا تھا کہ یونین کونسلوں کی تقسیم کے وقت صرف انتظامی حدود کا تعین کافی نہیں، بلکہ اس امر کو بھی یقینی بنایا جانا چاہیے کہ متعلقہ علاقوں کے رہائشیوں کو سرکاری دفتر تک پہنچنے کے لیے کم سے کم وقت اور اخراجات برداشت کرنا پڑیں۔ انہوں نے زور دیا کہ مقامی آبادی کی ضروریات، زمینی حقائق اور سفری راستوں کا جائزہ لے کر ایسا انتظامی فیصلہ کیا جائے جو تمام علاقوں کے لیے قابلِ عمل اور مفید ہو۔
علاقہ مکینوں نے ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ یونین کونسل سلطان پور کے قیام اور یونین کونسل لدھڑ کی تقسیم کے فیصلے پر نظرِ ثانی کی جائے۔ اس مقصد کے لیے متعلقہ حکام کو ہدایت کی جائے کہ وہ پنڈوروی سمیت تمام ملحقہ علاقوں کے رہائشیوں کو درپیش ممکنہ مشکلات کا جائزہ لیں اور مقامی آبادی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے قابلِ عمل حل تلاش کریں۔
اہلیانِ علاقہ نے امید ظاہر کی ہے کہ ضلعی انتظامیہ اس معاملے پر توجہ دے گی اور ایسا فیصلہ کیا جائے گا جس سے تمام متعلقہ دیہات کے لوگوں کو یکساں سہولیات میسر آئیں اور انہیں ضروری سرکاری امور کی انجام دہی کے لیے غیر ضروری سفری مشکلات اور اضافی اخراجات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔


