اسپین: پاکستانی شخص نے ’محبت کی خاطر مقروض‘ 2 بہنوں اور بھائی کو قتل کردیا

اسپین میں مبینہ طور پرقرض کی رقم ادا نہ کرنے پر پاکستانی شخص نے دو مقامی بہنوں اور ان کے بھائی کو قتل کردیا۔ دونوں بہنوں نے بھائی سمیت دیگر بہت سے افراد سے قرض امریکی فوجیوں کی محبت میں لیا تھا۔

فرانسیسی نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ مشتبہ شخص نے اتوار کے روز خود کو پیش کیا اور موراتا ڈی تاجونا کے علاقے میں ایک گھر میں ہونے والے تہرے قتل میں اپنے ملوث ہونے کا اعتراف کیا۔۔عدالتی ذرائع کے مطابق ملزم کو ایک سال قبل ایک خاتون پر ہتھوڑے سے حملہ کرنے کے جرم میں بھی سزا سنائی گئی تھی۔

اسپین کی پولیس کو جمعرات 18 جنوری کو میڈرڈ سے تقریباً 35 کلومیٹر (20 میل) جنوب مشرق میں واقع گاؤں میں ایک گھر سے جزوی طور پرجلی ہوئی 3 لاشیں ملی تھیں۔

پڑوسیوں نے کچھ عرصہ سے دونوں بہنوں اور ان کے ایک معذور بھائی کے نظر نہ آنے پر پولیس کو اطلاع دی تھی۔

پولیس کے مطابق موت کی وجہ ’قرض کی ادائیگی نہ کرنا‘ ہے۔ صرف ’ ڈی ایچ ایف سی’ کہلائے جانے والا یہ شخص اس کیس کا اہم ملزم ہے کیونکہ اس نے قتل ہونے والی خواتین میں سے ایک کو گزشتہ سال زخمی کیا تھا۔

قرض کی حقیقت

جس پاکستانی شخص نے قتل کئے وہ ان دونوں بہنوں کے یہاں کرائے پر مقیم تھا۔

ہسپانوی میڈیا کے مطابق یہ سانحہ ممکنہ طور پرجعلی آن لائن محبت سے جڑا ہے، قتل ہونے والی دونوں بہنوں کا 2 امریکی فوجیوں کے ساتھ تعلق تھا اور بعد ازاں انہیں یقین دلایا گیا کہ ایک امریکی فوجی کی موت ہوگئی ہے اور دوسرے کو پیسوں کی ضرورت ہے تاکہ وہ لاکھوں یورو کی وراثت منتقل کرسکے۔ مذکورہ فوجی نے ان بہنوں کو رقم ملنے کا یقین دلایا۔

دونو ں خواتین نے آغاز میں پڑوسیوں سے پیسے ادھار لینا شروع کر دیے۔

اس دوران انہوں نے اپنے پاکستانی کرائے دار سے بھی 50 ہزار یورو ادھار د لیے جو انہوں نے کبھی واپس نہیں کیا تھا، اسی لیے اس نے ایک بہن کو تشدد کا نشانہ بھی بنایاتھا۔

میڈرڈ ریجن کی اعلیٰ عدالت کے مطابق ملزم کو فروری 2023 میں اس کی بہنوں کے گھر سے گرفتار کیا گیا تھا جہاں وہ بطور کرایہ دار رہائش پزیر تھا۔ اُس پر 2900 یورو جرمانہ عائد کرتے ہوئے 2 سال قید کی سزا سنائی گئی تھی۔

تاہم ہسپانوی قانون کے تحت اگر کسی بھی شخص کو پہلے جرم پر 2 سال تک کی قید کی سزا ہو جاتی ہے تو اس کی سزا خود بخود معطل ہو جاتی ہے، لہٰذا اسے معاوضے کی ادائیگی پر رضامندی کے بعد رہا کردیا گیا تھا۔

پڑوسیوں نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ، ’ایک بہن نے باربار بڑی رقم ادھار لینا شروع کردی تھی اور اس کا کہنا تھا کہ انہیں 70 لاکھ یورو وراثت کی ادائیگی ہو گی تو وہ قرض واپس کردیں گی‘۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button