درختوں کو کاٹنا اپنی زندگی کو موت کی طرف لے جانے کے مترادف ہے، کامران کاظمی

جہلم: ماحولیاتی تبدیلی سے ہونے والی آلودگی سموگ موسمیاتی شدت اور آنے والی نسلوں کے لئے تحفظ ماحول کے عزم کے ساتھ شجر کاری کا سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری و ساری ہے۔

ان خیالات کا اظہار ڈویژنل فاریسٹ آفیسر کامران کاظمی نے جہلم پریس کلب کے نمائندہ وفد سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ انہوںنے کہا کہ درختوں کی کمی اس وقت پاکستان کا سنگین مسئلہ ہے ، درختوں کو کاٹنا اپنی زندگی کو دھیرے دھیرے سے موت کی طرف لے جانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے کہا کہ زمینی کٹاؤ کی وجہ پاکستان میں اس وقت صرف 1 اعشاریہ 8 فیصد درخت و جنگلات موجود ہیں جو کہ کم از کم 25 فیصد ہونے چاہئے ہم نے جو پودے لگائے ان کی آبیاری کرنا بھی ہماری ہی ذمہ داری ہے، زیادہ تر پودے ہماری عدم توجہی کیوجہ سے پروان نہیں چڑھتے اور ضائع ہو جاتے ہیں۔

کامران کاظمی نے کہا کہ ہمیں اپنے طلباء و طالبات کو با قاعدہ شجر کاری کی تربیت دینا ہو گی تب ہی ہماری آنے والی نسلیں سرسبز و شاداب اور صاف فضا میں سانس لے سکیں گی، پاکستان میں آلودگی کی سب سے بڑی وجہ گاڑیوں ، بھٹہ خشت اور فیکٹریوں سے نکلنے والا زہریلا دھواں ہے اور ہم اپنی زرعی زمینوں کو پیسوں کے لالچ میں درخت کاٹ کر کالونیوں میں تبدیل کرر ہے ہیں۔

انہوںنے مزید کہا کہ شہری ، سماجی ،رفاعی اور فلاحی تنظیموں کو بھی شجر کاری کے لئے آگاہی مہیا کرنا ہوگی تاکہ فضائی آلودگی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button