جہلم کے دور دراز اور دیہی علاقوں میں دو نمبر اور جعلی بیج سمیت ناقص زرعی ادویات کی فروخت کا مکروہ دھندہ تاحال ختم نہ ہو سکا۔
معروف کمپنیوں کے بعض ڈیلرز نے مکئی کے بیج کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کر کے من مانے نرخوں پر فروخت شروع کر رکھی ہے۔ تشویشناک امر یہ ہے کہ متعلقہ سرکاری ادارے اس سنگین مسئلے پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، جبکہ حکام بالا کو فرضی کارروائیوں اور “سب اچھا ہے” کی رپورٹس ارسال کی جا رہی ہیں۔
جہلم کے مختلف علاقوں میں مکئی کی بوائی کا سیزن شروع ہوتے ہی جعلی اور دو نمبر سیڈز، ناقص کھاد اور غیر معیاری زرعی ادویات کی فروخت میں خطرناک حد تک اضافہ ہو گیا ہے۔
متعدد علاقوں میں دکاندار اور کمیشن ایجنٹس ملاوٹ مافیا سے مبینہ ملی بھگت کے ذریعے سادہ لوح اور ان پڑھ کسانوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنے میں مصروف ہیں۔ سیڈ مافیا کے نمائندے بھاری مراعات کے عوض دیہات اور کسانوں کے ڈیروں پر جا کر جعلی تشہیر اور جھوٹی یقین دہانیاں دے رہے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رنگ برنگی اور پرکشش پیکنگ میں خطرناک کیمیکل ملے جعلی اسپرے، زنک، کھاد اور مکئی کے ناقص بیج کھلے عام فروخت کیے جا رہے ہیں، جس سے نہ صرف کسانوں کی محنت ضائع ہونے کا خدشہ ہے بلکہ زرعی پیداوار بھی شدید متاثر ہو رہی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ سیزن میں بھی دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے متعدد دکاندار جعلی زرعی ادویات فروخت کرتے ہوئے پکڑے گئے تھے، تاہم عوامی شکایات کے باوجود گزشتہ کافی عرصے سے جعل سازوں کے خلاف کوئی مؤثر کارروائی عمل میں نہیں لائی جا سکی، جو متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر بڑا سوالیہ نشان ہے۔
ضلع بھر کے کاشتکاروں نے سیکرٹری زراعت پنجاب، کمشنر راولپنڈی ڈویژن اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ اس سنگین صورتحال کا فوری نوٹس لیا جائے، جعلی بیج اور زرعی ادویات کے خلاف سخت کریک ڈاؤن کیا جائے اور ذمہ دار عناصر کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تاکہ کسانوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔


