جہلم: ضلع جہلم کی تقریباً 90 سال قدیم تاریخی لاجپت رائے پبلک لائبریری کی تزئین و آرائش اور بحالی کا کام مکمل ہونے کے بعد اسے جدید سہولیات کے ساتھ عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا گیا۔
وزیر مملکت برائے خزانہ و ریلوے بلال اظہر کیانی نے معروف علمی و ادبی شخصیت گگن شاہد، اہلِ علم، ادیبوں اور دیگر معزز شخصیات کے ہمراہ نو تزئین شدہ لائبریری کا باقاعدہ افتتاح کیا۔
افتتاح کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلال اظہر کیانی نے کہا کہ تقریباً 90 سال بعد ضلع جہلم کے تاریخی، علمی اور ثقافتی ورثے لاجپت رائے لائبریری کو نئی زندگی دینا ان کے لیے باعثِ مسرت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس منصوبے میں تعاون کرنے پر ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن، بُک کارنر جہلم کے گگن شاہد، امر شاہد اور اس کارِ خیر میں شریک تمام افراد خراجِ تحسین کے مستحق ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 1936ء میں قائم ہونے والی اس تاریخی لائبریری کو برصغیر کی تحریکِ آزادی کے ممتاز رہنما لالہ لاجپت رائے کے نام سے منسوب کیا گیا تھا۔ اصل عمارت لالہ لدھا شاہ بندرا کے صاحبزادے لالہ گوراں دتا مل نے اپنے والد کی یاد میں تعمیر کرائی تھی، جو اس وقت محکمہ جنگلات میں افسر تھے، تاہم بعد ازاں لائبریری کو لالہ لاجپت رائے کے نام سے موسوم کر دیا گیا۔
جہلم کی 90 سالہ قدیم تاریخی لاجپت رائے لائبریری بحال
اس تاریخی لائبریری کا افتتاح 3 مئی 1936 کو اُس دور کی معروف شخصیت ڈاکٹر گوپی چند بھارگو نے کیا تھا۔@KulAalam @UrduVirsa @BookCornerJlm pic.twitter.com/JHT1LbLDgN
— Media Talk (@mediatalk922) July 6, 2026
وزیر مملکت نے کہا کہ بحالی کے دوران نہ صرف اس تاریخی عمارت کا قدیم اور ثقافتی حسن محفوظ رکھا گیا بلکہ لائبریری میں 500 نئی کتابیں بھی شامل کی گئی ہیں۔ پہلی مرتبہ مستقل بنیادوں پر فل ٹائم لائبریرین تعینات کیا جائے گا، جبکہ خوبصورت لکڑی کے جدید بک شیلف نصب کیے گئے ہیں اور کتابوں کو پہلی بار موضوعات کے لحاظ سے منظم انداز میں ترتیب دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قارئین کے لیے مطالعے کا پرسکون ماحول فراہم کیا گیا ہے، نئے فرنیچر کا انتظام کیا گیا ہے اور لائبریری کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کیا گیا ہے تاکہ نوجوان نسل میں کتاب دوستی کا فروغ ممکن بنایا جا سکے۔
بلال اظہر کیانی نے کہا کہ یہ صرف ایک لائبریری نہیں بلکہ جہلم کا ایک قیمتی تاریخی ورثہ بھی ہے، جسے دیکھنے کے لیے دور دراز علاقوں سے لوگ آتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مادی ترقی کے ساتھ ذہنی اور فکری ترقی بھی ناگزیر ہے، اور کتابیں اس سفر میں بنیادی کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ مستقبل میں ملک بھر سے ممتاز علمی، ادبی اور ثقافتی شخصیات کو لاجپت رائے لائبریری مدعو کیا جائے گا، جہاں باقاعدگی سے علمی و ادبی نشستوں، کتابوں کی تقریبات اور فکری مذاکروں کا انعقاد کیا جائے گا تاکہ جہلم کو ایک فعال ادبی مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکے۔
اس سے قبل وزیر مملکت نے لائبریری کے مختلف حصوں کا دورہ کیا، بحالی کے کام کا تفصیلی جائزہ لیا اور تعمیر و تزئین کے معیار کو سراہا۔
واضح رہے کہ اس تاریخی لائبریری کا افتتاح 3 مئی 1936ء کو اس دور کی معروف علمی و سماجی شخصیت ڈاکٹر گوپی چند بھارگو نے کیا تھا، جبکہ اب تقریباً نو دہائیوں بعد اس تاریخی علمی مرکز کو جدید سہولیات کے ساتھ دوبارہ عوام کے لیے فعال کر دیا گیا ہے۔


