امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اہل کتاب نبوت کا انکار بھی کر رہے ہیں اور نبی کی ذات کو اللہ کی ذات کا حصہ قرار دے کر بہت بڑے شرک کے مرتکب ہورہے ہیں۔جو بہت بڑا جھوٹ اور گستاخی ہے۔حالانکہ اللہ کریم کا احسان کہ اس نے انبیاء مبعوث فرمائے اپنے ذاتی کلام سے نوازا اور زندگی گزارنے کے اسلوب سکھائے انسانی زندگی کیسے بسر کرنی ہے اس کا طریقہ سکھایا۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے حکم کی تعمیل میں ہماری ضرورت کی بھی تکمیل ہو رہی ہے۔آج جو خود کو سیاہ و سفید کا مالک سمجھتے ہیں اور اللہ کے حکم کے سامنے اپنی پسند کو ترجیح دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کل روزقیامت بڑے بڑے بادشاہ بھی کہہ اُٹھیں گے کہ حقیقی بادشاہی اللہ کی ہے۔اللہ نے جسے جہاں مبعوث فرمایا ہم اس میں کوئی فرق نہیں رکھتے سب پر ایمان لاتے ہیں۔احترام کو ملحوظ خاطر لانا ہماری ذمہ داری ہے احتیاط لازم ہے۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ ماہ مبارک ربیع الاول کی آمد آمد ہے۔نبی کریم ﷺ کی اس ماہ مبارک میں ولادت باسعادت ہوئی۔آپ ﷺ کے خدام صحابہ کرام ؓ کا آپ ﷺ کی ذات سے محبت کا یہ عالم تھا کہ بغیر کلام کے جان جاتے کہ آپ ﷺ اس وقت کیا پسند فرمائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ آج بھی ہر ماہ ربیع الاول میں آپ ﷺ سے اظہار محبت کے لیے محافل کا اہتمام کیا جاتا ہے لوگ خوشیاں مناتے ہیں لیکن کیا ہمیں اس بات کا عہد نہیں کرنا چاہیے کہ آج سے میں اپنی زندگی نبی کریم ﷺ کی سنت کے مطابق بسر کروں گا آج سے میں آپ ﷺ کی ادائیں اختیار کروں گا محبت کا تقاضہ تو یہی ہے لیکن ہوتا یہ ہے کہ محافل میں جاتے ہیں فرض نماز بھی چھوٹ جاتی ہے۔یہ کون سی محبت ہے؟
یاد رہے کہ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ کے تحت ہر سال کی طرح امسال بھی مرکزی طور پر ملک بھر میں بعثت رحمت عالم ﷺ کانفرنسز کا سلسلہ کل سے جاری ہے۔جن میں پہلا پروگرام میانوالی واں بھچراں اس کے علاوہ بھکر،اسلام آباد،مظفر گڑھ،ملتان،مرکز دارالعرفان منارہ،شاہ پورسرگودھااور لاہور شامل ہیں۔


