جہلم: رمضان المبارک کے مقدس مہینے میں شہریوں کو ریلیف فراہم کرنے کے حکومتی دعوے دھرے کے دھرے رہ گئے، جہلم شہر سمیت ضلع بھر میں قصابوں نے خود ساختہ نرخ مقرر کر کے سرکاری نرخ نامے کو ہوا میں اڑا دیا۔
حکومت پنجاب کی ہدایات پر ڈپٹی کمشنر سید محمد میثم عباس نے ماہِ صیام کے آغاز سے قبل اشیائے خوردونوش کے سرکاری نرخ مقرر کیے اور باضابطہ ریٹ لسٹ جاری کی، جس کے مطابق بکرے کا گوشت 1600 روپے فی کلو جبکہ گائے کا گوشت 800 روپے فی کلو مقرر کیا گیا تھا۔
تاہم قصابوں نے حکومتی احکامات کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے من مانی قیمتوں پر گوشت فروخت کرنا شروع کر دیا۔
شہریوں کی شکایات کے مطابق چھوٹا گوشت 1600 روپے کی بجائے 2000 سے 2200 روپے فی کلو جبکہ گائے کا گوشت 800 روپے کے بجائے 1000 سے 1200 روپے فی کلو فروخت کیا جا رہا ہے۔
اسی طرح مرغی کے گوشت کا سرکاری نرخ 597 روپے فی کلو مقرر ہے مگر دکاندار 1 کلو گوشت کی جگہ 700 روپے میں محض 850 گرام گوشت فراہم کر رہے ہیں۔
پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ ادارے سب کچھ جاننے کے باوجود خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو ان کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے فوری نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اور مہنگائی کے ذمہ دار دکانداروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی، بشمول فوجداری مقدمات درج کرنے کی اپیل کی ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اگر فوری طور پر اس صورتحال پر قابو نہ پایا گیا تو رمضان المبارک میں عوام کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔


