سیاسی پرندے

ایک شخص جو محبت سے محروم ہوتا ہے، وہ تنہائی کا اتنا شکار نہیں ہوتا جتنا وہ شخص جو اقتدار میں ہو لیکن نامساعد حالات کی وجہ سے اس سے محروم ہو جائے۔ جب وہ منصب پر فائز ہوتا ہے تو اس کے گرد خوشامدیوں، جنہیں عرف عام میں چمچے کہا جاتا ہے، کا ہجوم جمع ہو جاتا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ درباریوں کے درمیان شاہ ِ عالم مسند نشیں ہیں لیکن جب حالات کا بے رحم پہیہ چکر کھاتا ہے، تبدیلی جو کہ کائنات کا واحد مستقل ہے، اپنا رنگ دکھاتی ہے تو ہیرو، زیرو ہوجاتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی باغ اجڑ جاتا ہے اور موسمی پرندے پرواز کر جاتے ہیں۔

ہمارے وطن عزیز میں آجکل انتہائی نفیس، تجربہ کار،منجھے ہوئے سیاست دانوں کا دنگل جاری ہے۔ یہ دنگل دیکھ کر ہمیں بے حد اچھا محسوس ہوتاہے۔ فخر سے ہماری گردن تن جاتی ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے گردن میں سریا آنے لگا ہے۔ہمیں انتہائی ’’مسرت‘‘ ہوتی ہے کہ ہمارے وطن عزیز اور اس کے ماہرین سیاست کا کہاں کہاں اورکیسے کیسے ذکر ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ سیاست میں کبھی کسی کو ’’نہ‘‘ نہیں کہا جاتا۔یہی نہیں بلکہ مصلحت کے در و ازے ہمیشہ کھلے رکھے جاتے ہیں۔ اسی نظریے کے پیشِ نظر کبھی کوئی بھی دشمن دوست اور دوستی میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ سیاست جب چاہے دشمنی کی حد تک دوسرے کی مخالفت شروع کر دیتی ہے

سیاستداں، ا پنا آپ بھلا کر عوام کی خدمت کرنے والی ہستیاں ہیں ہم کیا کہیں، کیا کریں،کسی کو کیا کہیں۔ سوچا جائے تو کسی کو بھی کیوں کچھ کہیں کیونکہ سب اپنا اپنا کردار ادا کر رہے ہیں۔ اپنا اپنا حصہ ڈال رہے ہیں پھر ان بے چاروں کو کیا کہا جائے؟

سب کے سب اپنے دکھ درد اور تکالیف کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایک ہی دھن میں لگے ہوئے ہیں۔دن رات ملک و قوم کی خدمت کر رہے ہیں،’’باشندگانِ پاکستان‘‘ کی فلاح و بہبود کے کاموں میں مصروف ہیں۔ہر وقت جتے ہوئے ہیں کولہو کے بیل کی طرح۔ کسی اور چیز سے انہیں کوئی سروکار نہیں۔ بس ایک ہی لگن ہے اور وہ ہے، خدمت،خدمت اور صرف خدمت۔ دیکھا جا ئے تو قائد اعظم محمد علی جناح نے قوم کو تنبیہ کی تھی کہ ملک کی ترقی کے لئے دن رات محنت کرنی ہوگی اور ’’کام، کام اور کام‘‘ کا وتیرہ اپنانا ہوگا۔

ہم نے دیکھا کہ ہمارے صاحبان نے کام کی بجائے خدمت، خدمت اور خدمت کو اپنا شعار بنا لیا۔اس میں قائد اعظم کی تنبیہ بھی شامل ہو گئی کیونکہ اس خدمت کے لئے بھی تو ہلنا جلنا، چلنا پھرنا پڑتا ہے اور اسی چلت پھرت کو کام کہتے ہیں چنانچہ یہ کہنا بے جا نہیں کہ کام بھی خدمت ہے اور خدمت بھی کام ہے۔

یہاں ایک سوال یہ سامنے آتا ہے کہ اگر کوئی فرد یا افراد کا مجموعہ عوام کی خدمت پر مامور ہو، اس نے راتوں کی نیند اور دن کا چین برباد کر رکھا ہو اور مسلسل ملک اور قوم کی خدمت میں جُتا ہوا ہو تو کہا جاتا ہے کہ اس نے اپنی ذات کو عوام کے لئے وقف کر دیا ہے۔ ایسے شخص کو جمہوریت کا خادم اور اشخاص کے مجموعے کو خادمینِ جمہوریت کہا جاتا ہے۔یہ خادمین جس نظام کو ملک میں فروغ دیتے ہیں اسے جمہوریت کا نام دیا جاتا ہے۔ ان افراد یا افراد کے مجموعے کو سیاستداں کہتے ہیں جبکہ ان کے اعمال و افعال کو سیاست کہا جاتا ہے۔

ہمارے وطن عزیز میں سیاست کی کئی اقسام پائی جاتی ہیں مثال کے طور پر:

  • خاندانی سیاست
  • اُف یہ سیاست
  • ہائے یہ سیاست
  • تف یہ سیاست
  • ادھر کی سیاست
  • اُدھر کی سیاست

ان سیاستوں کی تعریف بیان کرنے کے لئے تو کئی دفتر درکار ہوں گے اس لئے ہم تفصیل میں جانا نہیں چاہتے۔ ان سیاستوں کا ہی اثر ہے کہ ہمارے ہاں خبروں میں سیاست، اخبارات میں سیاست، فیس بک پہ سیاست،واٹس ایپ پہ سیاست، ریڈیو پر سیاست، جہاں دیکھو سیاست ہی سیاست ہے۔ تبھی تو چین کی نیا بہہ رہی ہے۔ ہر طرف امن ہے، سکون ہے،راحت ہے۔ ایسے میں ’’خوشی‘‘ کو بھلا کوئی کیسے بھلا سکتا ہے وہ بھی ہمارے درمیان کہیں زندہ و تابندہ گھوم رہی ہے کیونکہ ہمارے رہنما اور سیاست دان ہمارے وطن عزیز کے صاحبان سب اسی کوشش پیہم میں ہیں کہ ہمارے پیارے،محترم اور نازک عوام کو کوئی تکلیف نہ ہو۔

دیکھا جائے تو سیاستداں آخر کس لئے ہیں؟ بھلا جمہوری نظام کی جد و جہد کس کی خاطر کی جاتی ہے؟اس کا جواب تو کوئی انگوٹھا ٹیک، ناخواندہ، لٹھ مار بھی آنکھیں بند کر کے دے سکتا ہے کہ سیاستدانوں کی جمہوریت کے لئے کی جانے والی جدو جہد صرف اور صرف عوام کے لئے ہوتی ہے۔

سیاستداں وہ ہستیاں ہوتی ہیں جنہوں نے ا پنا آپ بھلا کر عوام الناس کی خدمت اور ان کی خیر خواہی کو اپنا مقصدِ حیات بنا رکھا ہوتا ہے، ہمارے ہاں ایسی ہستیاں بے شمار ہیں۔وہ لوگ جو خود کچھ کر نہیں سکتے یا کرنا نہیں چاہتے وہ ان لوگوں کو معصوم سمجھ کر منتخب کر لیتے ہیں۔ اب آپ ہی کہئے کہ اس میں ان بے چارے نمائندوں کا کیا قصورہے؟

بہت ہو گئی ناں۔ بات کوئی بڑی بھی نہیں،اب تو روٹین ہی ہو گئی ہے۔کوئی نہ کوئی تبدیلی،کوئی نہ کوئی ہلچل سیاسی جماعتوں اور نمائندوں میں ہوتی رہتی ہے۔ ابھی وہ جناب آپ کے تھے، ابھی وہ ہمارے ہیں ا ور اگلی صبح نہ آپ کے نہ ہمارے۔

ارے ہم بھی کہاں سے کہاں پہنچ گئے۔خیر بات دور کی ہو یا نزدیک کی، ملک تو ہم سب کا ہے لیکن جمہوریت جمہوریت کھیلتے کھیلتے ہم خود اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار رہے ہیں۔ اللہ کریم نے ہمیں اتنا بابرکت اور خوبصورت ملک عطا فرمایاہے۔ افسوس یہ ہے کہ ہم نے اس کی قدر نہیں کی۔

ذرا غور کیجئے کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے یہ ملک لٹتا ہی جا رہا ہے اور لوٹنے والے اتنے دیدہ دلیر ہیں کہ لوٹ لوٹ کر بھی معصوم کے معصوم ہی ہیں ، ہر کام جو کسی بھی سیاست دان سے تعلق رکھتا ہے،اتنا پھل پھول رہا ہے کہ موسمی پیداوار تو اپنی جگہ، ان کے بے موسمی پھل بھی خوب ہوتے ہیں اور انہی کی زیرنگرانی ہر ادارہ اپنے زوال کے اعلیٰ درجے پر پہنچ چکا ہے۔ کیاخوب کہا ہے کسی نے کہ:

ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھی ہوں

یہی صورتحال ہماری ملکی سیاست اور ملکی حالات کی ہے۔ اب بھی بڑے بڑے جلسے جلوس دیکھتے ہوئے اندازہ نہیں لگایا جا سکتا کہ ہمارے عوام کیا چاہتے ہیں۔مسائل میں گھرے عوام جب تک خود کوئی عملی قدم نہیں اٹھائیں گے، وہ ایسے ہی گنجلک میں الجھے رہیں گے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button