عالمی عدالت انصاف کا اسرائیل کو غزہ میں نسل کشی روکنے کا حکم

عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) نے اسرائیل کی غزہ میں نسل کشی کا کیس نہ سننے کی درخواست مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف نسل کشی کا مقدمہ چلانے کا اعلان کردیا۔

عدالتی فیصلے میں بتایا گیا کہ اسرائیل نے بڑے پیمانے پر غزہ میں کارروائیاں کی، اس میں بڑے پیمانے ہر شہریوں کی ہلاکتیں بھی ہوئی، اسرائیلی حملوں میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی۔

مزید کہا کہ غزہ میں مسلسل جانی نقصان پر تشویش ہے، اسرائیل نے حماس کے حملے پر جوابی کارروائی شروع کی، اقوام متحدہ کے کئی اداروں نے اسرائیل کے خلاف قراردادیں پیش کیں۔

عدالتی فیصلے کے مطابق غزہ میں انسانی المیہ جنم لے رہا ہے، اسرائیل کے حملوں سے غزہ کے انفرا اسٹرکچر کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے، مزید یہ کہ عالمی عدالت انصاف کو نسل کشی کنونشن کے تحت کیس سننے کا اختیار ہے۔

فیصلے میں بتایا گیا کہ اسرائیل کے خلاف غزہ میں نسل کشی کا کیس خارج نہیں کریں گے، اسرائیل فلسطینیوں کی نسل کشی روکے۔

عالمی عدالت انصاف میں کیس کا فیصلہ سنانے کے دوران 17 رکنی پینل میں سے 16ججز موجود تھے جن میں سے 15 ججوں نے اس فیصلے کی تائید کی۔

عالمی عدالت انصاف نے جنوبی افریقا کی درخواست پر فیصلہ سنایا ہے، عالمی عدالت انصاف نے اسرائیل کی کیس نہ سننے کی درخواست مسترد کردی۔

یاد رہے کہ عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی کا الزام اسرائیل پر عائد کرتے ہوئے مقدمہ دائر کیا تھا جس کے بعد عالمی عدالت میں کارروائی جاری تھی، 11 اور 12 جنوری کو ہونے والی سماعت میں جنوبی افریقہ اور اسرائیل نے دلائل پیش کیے تھے۔

جنوبی افریقہ نے سماعت کے دوران اسرائیل کے خلاف عارضی اقدامات کی استدعا کی تھی۔

اس دوران اسرائیل نے عالمی عدالت انصاف میں غزہ میں فلسطینیوں کی ہلاکتوں کا ذمہ دار فلسطین کی مزاحمتی تحریک حماس کو قرار دیا تھا۔

اسرائیل نے غزہ میں 26 ہزار سے زائد فلسطینیوں کی اموات کے باوجود عالمی عدالت انصاف میں سماعت کے موقع پر اپنی کارروائیوں کو فلسطینیوں کی نسل کشی کی مہم ماننے سے انکار کرتے ہوئے الزامات کو جھوٹا اور مسخ شدہ قرار دے دیا تھا۔

خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیل نے عالمی عدالت میں مؤقف اپنایا کہ وہ اپنے دفاع کا حق استعمال کررہا ہے اور ان کی لڑائی فلسطینیوں سے نہیں بلکہ حماس سے ہے۔

انہوں نے عالمی عدالت انصاف (آئی سی جے) سے مطالبہ کیا کہ وہ اس مقدمے کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے جارحیت کو روکنے کی جنوبی افریقہ کی درخواست کو مسترد کرے۔

عدالت میں اسرائیل کے وکیل میلکم شا نے دلیل دی کہ یہ کوئی نسل کشی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ 7 اکتوبر کو حماس کی جانب سے کیے گئے حملوں کے بعد اسرائیل نے غزہ میں وحشیانہ کارروائیوں کا آغاز کیا تھا، اسرائیلی حکام کے مطابق حماس کے حملے میں عام شہریوں سمیت 1200 افراد مارے گئے، اس کے علاوہ 240 افراد کو یرغمال بھی بنایا گیا تھا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button