پاکستان میں صحافت ہمیشہ جان جوکھوں کا کام رہا، افضل بٹ

گلاسگو: پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کے صدرافضل بٹ نے کہا ہے کہ پاکستان میں صحافت ہمیشہ سے ہی جان جوکھوں کا کام رہا ہے۔ 1950سے لے کر آج تک جتنے بھی حکمران آئے ہیں چاہے وہ آمرہوں یا جمہوریت کے نام پر آئے ہوں ان میں ایک چیز مشترک رہی ہےکہ پریس پر زیادہ سے زیادہ پابندیاں کیسے عائد کی جائیں اور اس کو مکمل طور پر کیسے اپنے کنٹرول میں رکھا جائے۔

گلاسگو میں پاکستان پریس کلب کی طرف سے اپنے اعزاز میں دیئے گئے عشایئے سے خطاب کرتے ہوئے افضل بٹ نے بیرون ملک مقیم پاکستانی صحافیوں کو زبردست خراج تحسین پیش کیا اور کہاکہ جب پاکستان میں آمریت کی سیاہ رات ہوتی ہے آپ ہماری امیدوں کاسہارا اورروشنی کاچراغ بن کرسامنے آتے ہیں اور بین الاقوامی سطح پر ہماری آواز پہنچاتے ہیں۔

افضل بٹ نے کہا کہ دنیا بھر کی طرح پاکستان کے عوام کا بھی حق ہے کہ ان کوپتہ چلے کہ ان کے ٹیکس کے پیسے کہاں اور کیسے خرچ ہوتے ہیں۔ حکومت، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ ان کوکیسے استعمال کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی سول سوسائٹی اور دیگرطبقے صحافیوں کی تحریک کا اس وجہ سے بھرپور ساتھ دیتے ہیں کہ ہم ان سب کے حقوق کیلئے لڑ رہے ہوتے ہیں۔

افضل بٹ نے اس پروپیگنڈے کی تردید کی کہ پاکستانی قوم دنیا کی انتہائی بددیانت اقوام میں سے ایک ہے جب کہ صورتحال اس کے برعکس ہے۔ پاکستان میں محلے کے ایک عام دکاندار سے لے کر بڑی منڈیوں تک میں روزانہ اربوں روپوں کا کاروبار صرف اعتماد کی بنیاد پر چلتا ہے جن کی کوئی رسیدیں یا تحریر نہیں لی جاتی۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی قوم فی کس انکم کے لحاظ سے دنیا کے پہلے10 بڑے ممالک میں سے ایک ہے جو سب سے زیادہ چیرٹی کرتے ہیں باقی بددیانت لوگ بھی ہر معاشرے میں ہوتے ہیں، ہمیں چاہئے کہ پاکستان کی اچھی باتوں کو اجاگرکریں، بیرون ملک مقیم پاکستانی صرف نام کی حدتک نہیں بلکہ عملی طور پر ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں اور پاکستان میں لاکھوں خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں ،خود تنگدستی میں رہ کر پاکستان میں نہ صرف اپنے رشتہ داروں بلکہ محلہ داروں اور دوستوں کی بھی مشکل وقت میں مدد کرتے ہیں، یہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہی ہیں جنہوں نے اس مشکل ترین وقت میں بھی وہاں صورتحال کو بدترین ہونے سے روک رکھا ہے۔

پاکستان پریس کلب اسکاٹ لینڈ کے سرپرست اعلیٰ کونسلر حنیف راجہ نے کہاکہ صحافت معاشرے کا چوتھا ستون ہے یہ ایک پیغمبرانہ پیشہ ہے اور معاشرے میں ہونے والے ہر ظلم کے خلاف آواز بلند کرتا ہے، جس کی آواز کوئی نہیں سنتا آپ اس کے چارہ گر ہیں۔ صحافی معاشرے کی آنکھ اورکان ہوتا ہے، برائیوں کو سامنے لاتا ہے اور اچھائیوں کو اجاگر کرتا ہے۔

پاکستان پریس کلب سکاٹ لینڈ کے صدر طاہر انعام شیخ نے کہا کہ جس طرح معاشرے کے ہر فرد کے خیالات ہوتے ہیں اسی طرح صحافی بھی انہیں میں شامل ہیں لیکن صحافی کو کسی پارٹی کا فریق ہرگز نہیں بننا چاہئے اور ہمیشہ حق و سچائی کی بات کرنا چاہئے، کیونکہ جج کی طرح صحافت کا پیشہ بھی غیرجانبداری کی توقع کرتا ہے۔

پریس کلب کے فنانس سیکرٹری کیپٹن فرید احمدانصاری نے کہا کہ آزادی صحافت کے بغیر قومی خوشحالی ، ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ میڈیا کو اپنا کردار ذمہ داری اور فرض شناسی سے کرنا چاہئے، تمام اداروں کو اپنی حدود میں رہنا چاہئے۔

مقامی کمیونٹی اخبار کے ایڈیٹر ندیم عظمت نے کہا کہ صحافت کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ معاشرے کی چھپی ہوئی برائیوں کو منظرعام پر لاتاہے، مافیا کوبے نقاب کرتا ہے جس سے آپ کے بہت سے دشمن پیدا ہو جاتے ہیں، چنانچہ ایک نڈر اور بے باک صحافی بننا قتل گاہ شہادت میں قدم رکھنے کے برابر ہے اور اس وجہ سے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں ہزاروں صحافی شہید ہو چکے ہیں۔

چوہدری محمد اظہر نے کہا کہ آزادی اظہار مثبت ہونی چاہئے، آزادی اظہار کے نام پر مذہبی، ثقافتی اور ذاتی عناد کو ترویج دینا نہایت افسوسناک ہے۔ عامر بٹ نے کہا کہ بزرگ کہتے تھے کہ اللہ کے نزدیک قلم وعلم سے جدوجہد کرنے والے مجاہدین کا بہت رتبہ ہے، آپ جو کچھ کہتے ہیں لکھتے ہیں وہ بہت جلد زبان زد عام ہو جاتا ہے۔

رانا راشد نے کہا کہ قائداعظم نے قیام پاکستان کے وقت فرمایا تھا کہ کسی بھی معاشرے میں صحافت اور قوم کا عروج و زوال ایک ساتھ ہوتا ہے۔ طاہر ڈار نے کہا کہ تیسری دنیا کے ممالک میں میڈیا اس وقت تک آزاد ہے جب تک کہ وہ حکومت وقت کی تعریف کرے۔

راجہ عابد حسین نے کہا کہ میڈیا کو اب تک جو آزادی ملی ہے وہ کسی حکومت نے پلیٹ میں رکھ کرنہیں دی، بلکہ اس میں کئی جانیں دی گئیں اور کوڑے کھائے گئے۔ماجد حسین نے کہا کہ صحافی کا کام ہے کہ خبر کو واقعاتی طور پر بالکل ایسے ہی لکھے جیسے کہ اس نے دیکھا اگر اپنی رائے کا اظہار کرنا ہے توکالم میں کرے۔

سیاسی و سماجی رہنماچوہدری فخر اقبال نےکہا کہ صحافت ایسا ہنر ہے جس سے آپ عوام کی دلی امنگوں اور ان کی اندرونی سوچ کو سامنے لاتے ہیں۔ کلب کے جنرل سیکرٹری مصطفیٰ علی بیگ نے تقریب میں نظامت کے فرائض انجام دیئے اور شرکا کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button