اسلامک کمیشن سپین کے صدر ڈاکٹر ایمان ادلبی کی بارسلونا آمد، پاک فیڈریشن مذہبی امور کونسل کی تقریب

بارسلونا: اسلامک کمیشن کے صدر ڈاکٹر ایمان ادلبی اپنی ٹیم کے ہمراہ میڈرڈ سے بارسلونا پہنچے۔ پاک فیڈریشن کے صدر چوہدری ثاقب طاہر اور مذہبی امور کونسل کے چیئرمین راجہ ساجد محمود اور دیگر ایگزیکٹو ممبران نے مہمان کو خوش آمدید کہا۔

فیڈریشن کی طرف سے قرطبہ فورم پر ایک خصوصی نشست کا اہتمام کیا گیا جس میں پاک فیڈریشن کے ممبران کے علاوہ مذہبی و سیاسی تنظیمات کے نمائندگان، نوجوانوں، کاروباری حضرات کی بڑی تعداد، خواتین اور کمیونٹی ممبران نے شرکت کی۔ پروگرام کی نظامت کے فرائض راجہ بابر ناصر جبکہ ٹرانسلیشن کے فرائض غضنفر منظور نے ادا کیے۔

اس خصوصی نشست کے دوران پاک فیڈریشن کی طرف سے مسلم بچوں کے لیے سکول میں اسلامی تعلیم کے اساتذہ کی دستیابی، مسلمانوں کے لیے الگ قبرستان اور دیگر درپیش مسائل پیش کیے گئے جن کا ڈاکٹر ایمان ادلبی نے مکمل یقین دلایا۔

سوال و جواب کے دوران یونیورسٹی کی طالبہ صفاء چوہدری، طاہر فاروق ،شہباز کھٹانہ اور بابائے صحافت جاوید مغل نے مختلف سوالات اٹھائے جن کا اسلامک کمیشن سپین اور اسلامک کمیشن کتلونیہ کے صدر نے اختصار سے جواب بھی دیا اور ان کے حل کا مکمل یقین بھی دلایا۔

اپنے خطاب کے دوران ڈاکٹر ایمان ادلبی نے اسلامک کمیشن کی کوششوں سے آگاہ کیا اور کہا کہ ہم دن رات ایک کر کے بچوں کے تربیتی مسائل پر کام کر رہے ہیں اور ضرورت اس امر کی ہے کہ بارسلونا اور دیگر شہروں کی تمام مسلم تنظیمات ہمارے ساتھ مل کر کام کریں تاکہ ہم ایک بڑی طاقت بن کر اپنے بچوں کو سپین میں بہتر مستقبل دے سکیں ورنہ ہمارا بیٹا تو مسلمان ہوگا لیکن مستقبل قریب میں ہمارے پوتے/پوتیاں اسلام بھول چکے ہوں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہم اندلسی پروجیکٹ کے تحت 1600 سے زیادہ اسلامی استاد تیار کر چکے اور ان کو مکمل ٹریننگ دے چکے ہیں اور اب والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ جس سکول میں ان کا بچہ پڑھتا ہے وہاں لکھ کر دیں کہ ہمارے بچے کو اسلامیات پڑھانے کے لیے استاد مہیا کیا جائے، پھر متعلقہ سکول کا ڈائریکٹر وزارت ایجوکیشن کو لکھے گا اور پھر گورنمنٹ اسلامک کمیشن سے استاد نامزدگی بارے کہے گی۔

انہوں نے بتایا کہ اسلامی پروفیسر کی کمی کا ایک بہت بڑا مسئلہ تھا کیونکہ دوسری طرف اسلامی یونیفائیڈ کورس کا بھی بہت بڑا مسئلہ تھا جو ہم نے چھٹی کلاس تک تیار کر دیا ہے اور کتابیں بھی تیار ہو چکی ہیں اور اسلامیات کی سرکاری کتابیں جلد تمام تنظیمات کے پاس دستیاب ہونگی جبکہ یونیورسٹی لیول کے کورس کے لیے سپینش ماہرین اور انتظامیہ سے بات چیت جاری ہے اور وہ بھی جلد تیار ہو کر دستیاب ہوگا کیونکہ یہ کام اتنا اسان اور ہم مرحلہ وار اس سفر پر رواں دواں ہیں۔

ملک بھر میں تمام کمیونٹیز کی مساجد کے ائمہ کرام کے بارے میں انھوں نے کہا کہ دو ہزار سے زائد مساجد ملک بھر میں موجود ہیں اور یہ تمام کلچرل سینٹر اسلامک کمیشن سے وابسطہ ہیں مگر یہ ہر کمیونٹی کی طرف سے ایک نظام چلانے کا بندوبست ہے مگر ائمہ اکرام کی آئین قانون کے مطابق تربیت کا بہت بڑا فقدان ہے۔ موجودہ تمام آئمہ کرام کو مکمل تربیت یافتہ ہونا چاہیے اور اس پر بھی ہم کام کر رہے ہیں کیونکہ تعلیمی اداروں اور مساجد میں بیک وقت بچوں کی تربیت کا فرقہ پرستی سے بالا تر ہو کر ایک یونیفائیڈ سسٹم ہونا چاہے تا کہ سپینش مسلم بچوں کی بہترین تربیت کی جا سکے جو وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نےمزید کہا کہ سپین میں 30 لاکھ کے قریب مسلمان بستے ہیں اور یہاں مسلم گھرانوں میں ہر پیدا ہونے والا بچہ سپینش مسلمان ہے نہ کہ مراکشی، پاکستانی، الجزائری یا بنگالی۔ اس لیے سپین آئین کے مطابق مسلمانوں کو دیے گئے حقوق کے تحت بچوں کی تعلیم و تربیت کرنے کی اشد ضرورت ہے اور یہ مسلمانوں کا حق ہے جو آئین نے دے رکھا ہے اور سپین واحد ملک ہے جس نے ہماری طویل جدو جہد کے بعد 1992 میں مسلمانوں کو سب سے زیادہ حقوق دئے۔

انہوں نے کہا کہ 1992 میں مسلمانوں کی اتنی بڑی تعداد سپین میں موجود نہیں تھی جتنی اب ہے نہ ہی اس وقت خواتین یا فیملیوں کی زیادہ تعداد تھی مگر ہمارے حقوق کا قانون موجود ہے اور یہ حق حاصل کرنے کے لیے ہر مسلمان/والدین کو خود کام کرنا ہے۔ والدین کو خود سکول سے مکمل رابطے میں رہنا ہے اور لکھ کر اپنے بچوں کے لیے پروفیسر کی ڈیمانڈ کرنی ہے نہ کہ کسی ایسو سی ایشن یا فیڈریشن نے یہ کام کرنا ہے، اس طرح کی تنظیمات رہنمائی کر سکتی ہیں لیکن بچوں کے حقوق اور تربیت کے لیے کام والدین نے خود کرنا ہے۔

عید و رمضان کے حوالے اٹھائے گئے سوال پر انہوں نے جواب دیا کہ اسلامک کمیشن نے ایک مکمل پروگرام بنا دیا ہے اور اس پر عمل کرنا تمام ایسو سی ایشننز اور لوگوں کا کام ہے اور دیگر سوالات کا بھی معزز مہمان نے اختصار سے جواب دیا۔

پروگرام کے دوران اندلسی اسلامک ایجوکیشن سسٹم کے پروجیکٹ منیجر ہشام نے بتایا کہ کہ یہ ایک بہت بڑا پراجیکٹ ہے جس کے تحت ہم اساتذہ کرام کو تیار کر رہے ہیں اور اسلامک کورس، کتابیں تیار کی جا رہی ہیں جو مساجد ، مختلف تنظیمات اور سکولوں میں دستیاب ہو کریں گی اور اس کے لیے جدید ٹیکنالوجی اور ایپلیکیشن پر بھی کام ہو رہا ہے۔

مہمان خصوصی کے خطاب سے پہلے سپین میں اسلام فوبیا کو Encounter کرنے والے نو مسلم میخیل آنخیل (ابراہیم) نے بھی خطاب کیا اور اسلامک کمیشن کے سربراہ کو باور کروایا کہ پرائمری کلاسوں کے بچوں کو سکولوں میں قانونی سازی پر بھی بات کریں کیونکہ ہم مسلم ہیں اور اپنے بچوں کو اس گڑھے میں گرتا نہیں دیکھ سکتے۔

ابراہیم نے اس نئے قانون کے خلاف سپریم کورٹ میں پٹیشن دائر کر رکھی ہے کہ گورنمنٹ نے ایک بین الاقوامی قانون کو لاگو کرنے کے لیے اپنے آئین کی دھجیاں اڑا رہی ہے، اس پٹیشن کے لیے بہت ساری رقم کی ضرورت تھی۔

مذہبی امور کے چیئرمین راجہ ساجد محمود نے زر تعاون کے طور پہلا چیک اسی تقریب کے دوران پاک فیڈریشن کی طرف سے ابراہیم کے حوالے کیا اور یقین دلایا کہ اس کیس کے فیصلہ تک پاک فیڈریشن کا تعاون جاری رہے۔ ابراہیم نے اسلام فوبیا کو روکنے کے لیے ایک تنظیم بھی بنا رکھی ہے جس کے فورم سے وہ عملی طور پر ہر جگہ غلط قوانین اور بچوں کی تعلیم و تربیت کے لیے اواز اٹھاتے ہیں۔

پروگرام کے آخر میں فیڈریشن کی طرف سے ڈاکٹر ایمان ادلبی کو شیلڈ پیش کی گئی اور فیڈریشن کے صدر، مذہبی امور کے چیئرمین اور جنرل سیکرٹری نے میڈیا سمیت سب مہمانان گرامی کا شکریہ ادا کیا۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button