متحدہ عرب امارات میں بھرتی کا نیا اصول متعارف

دبئی: متحدہ عرب امارات میں بھرتی کا نیا اصول متعارف کرواتے ہوئے کمپنیوں کو ہدایت کی گئی ہے وہ 5 ملازمین میں سے ایک ورک پرمٹ کسی دوسری قومیت کیلئے حاصل کریں، پاکستانیوں کیلئے ویزہ کی بندش کا دعویٰ مسترد کردیا گیا۔

خلیج ٹائمز اور گلف نیوز کی رپورٹس مطابق متحدہ عرب امارات میں مقیم کمپنیوں اور تعلقات عامہ کے افسران (پی آر اوز) کا کہنا ہے کہ نئے ورک پرمٹ کے لیے آن لائن درخواست دیتے وقت وزارت انسانی وسائل اور امارات (MOHRE) کی جانب سے ایک الرٹ موصول ہو رہا ہے جس میں زور دیا گیا ہے کہ مختلف قومیتوں کے ورکرز کی خدمات حاصل کریں۔

ورک پرمٹ کے لیے درخواست جمع کرواتے وقت موصول ہونے والے الرٹ یا پاپ اپ نوٹی فکیشن میں سامنے آنے والی تحریر میں کہا جا رہا ہے کہ "ثقافتی اور آبادیاتی تنوع میں اپنے منفرد اور کامیاب تجربے کو بڑھانے کے لیے ایک ساتھ اس کامیابی کا حصہ بنیں اور اپنی فرم کے لیے مختص کوٹہ کے اندر ہر پانچ ورک پرمٹ میں سے پہلے پرمٹ کے لیے درخواست دیتے وقت تنوع کے اصول کو نافذ کرتے ہوئے اس کے تسلسل کے لیے کوشاں رہیں”۔

ویزہ ماہرین اور ایجنٹس نے واضح طور پر وائرل ہونے والے ان دعوؤں کی تردید کی ہے کہ متحدہ عرب امارات نے ہندوستانیوں، پاکستانیوں اور بنگلہ دیشیوں کو ویزہ جاری کرنا بند کر دیا ہے کیوں کہ جب کسی خاص قومیت کے ملازمین کی بڑی تعداد والی کمپنیاں اسی قومیت کے مزید لوگوں کے لیے نئے ویزوں کے لیے درخواست دیتی ہیں تو صرف ان کو ہی حکام کی جانب سے ایسا پیغام موصول ہوتا ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ کسی دوسری قومیت کے ملازم کی خدمات حاصل کرنے کی کوشش کریں۔

گلیکسی ڈیجیٹل بزنس سروسز دبئی کے پبلک ریلیشنز مینیجر سراج الدین عمر نے بتایا ہے کہ حال ہی میں ورک پرمٹ کے لیے درخواست دینے میں ان کی کمپنی کے تجربے کی بنیاد پر وہ ادارے جن کی افرادی قوت میں مختلف قومیتیں شامل نہیں ہیں انہیں سسٹم کی جانب سے یہ پیغام موصول ہورہا ہے، ایسے معاملات میں کمپنیوں کو بھرتی کے لیے ایسے امیدواروں کی تلاش کرنے کی ضرورت ہے جو مختلف قومیتوں سے تعلق رکھتے ہوں، اگر کسی کمپنی کے پاس ورک پرمٹ کے لیے کوٹہ ہے تو انہیں اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ دستیاب کوٹہ کا 20 فیصد مختلف قومیتوں کے لیے مختص کیا جائے۔

اسی حوالے سے صدیق حیدر کارپوریٹ سروسز پرووائیڈر کے آپریشنز مینیجر عدنان خان کا کہنا ہے کہ یہ طریقہ کار اداروں کے آبادیاتی تنوع سے منسلک ہے اور کسی مخصوص قومیت سے منسلک نہیں ہے یعنی آپ اپنی کمپنی کے کوٹہ کے لحاظ سے 20 فیصد الگ الگ قومیتوں کے لیے مختص کرتے ہوئے نئی بھرتیاں کرسکتے ہیں، وزارت کی جانب سے کمپنی کی درجہ بندی میں ایسے اداروں کو زمرہ 2 سے کیٹیگری 3 میں منتقل کردیا جاتا ہے جو ایک نچلی قسم ہے اگر وہ اس اصول پر توجہ مرکوز نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ادارے کی صرف کوئی ایک ہی قومیت ہے جو کل افرادی قوت کا ایک بڑا حصہ ہے تو اسٹیبلشمنٹ کیٹیگری 2 سے کیٹیگری 3 میں چلی جاتی ہے، اس سے کمپنی بھی متاثر ہوتی ہے کیوں کہ ان کے ورک پرمٹ کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں، زمرہ 2 اور کیٹیگری 3 کے لیے ورک پرمٹ کی قیمتیں مختلف ہیں، یہی وجہ ہے کہ اس اصول سے کمپنیوں کو بھی فائدہ پہنچے گا کہ ان کی افرادی قوت میں مختلف قومیتیں ہوں گی اور ورک پرمٹ کی قیمتیں بھی کم ہوں گی۔

عدنان خان نے بتایا کہ جب کوئی ہمارے پاس نئے کارکن کی خدمات حاصل کرنے کے لیے آتا ہے تو ہم سب سے پہلے MOHRE سے آفر لیٹر کے لیے درخواست دیتے ہیں، جس میں کمپنی کے شرائط و ضوابط اور پیشکش کی جا رہی ہوتی ہے ان میں آفر لیٹر اور تنخواہ کی تفصیلات بھی شامل ہوتی ہیں، جب منظوری مل جائے، تو ہم صارف کو مطلع کردیتے ہیں، جسے اس پر دستخط کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، اس کے بعد اسے منظوری کے لیے MOHRE کو پیش کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہم ادائیگی کرتے ہیں اور پھر ویزہ کے لیے اپلائی کرتے ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button