جہلم شہر اور ملحقہ علاقوں میں سوئی گیس کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ نے معمولات زندگی کو بری طرح متاثر کر دیا ہے۔ شدید سردی کے موسم میں گیس کی بار بار بندش کے باعث گھریلو خواتین، مزدور طبقہ، طلبہ اور بزرگ شہری سخت مشکلات کا شکار ہیں۔
صارفین کا کہنا ہے کہ صبح اور رات کے کھانے کے اوقات میں سوئی گیس کا غائب ہونا معمول بن چکا ہے۔ کبھی گیس کا پریشر انتہائی کم ہو جاتا ہے اور کبھی سپلائی مکمل طور پر بند کر دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے کھانا پکانے جیسے بنیادی کام بھی گھنٹوں انتظار اور بے بسی کی علامت بن گئے ہیں۔ طلبہ و طالبات کو اکثر بغیر ناشتہ کیے اسکول جانا پڑتا ہے جبکہ دفاتر اور کاروبار پر جانے والے افراد کو بھی شدید دشواری کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ متعلقہ اداروں کی جانب سے دی جانے والی وضاحتیں اور وعدے زمینی حقائق سے مطابقت نہیں رکھتے۔ صارفین کے مطابق یہ بحران صرف انتظامی نہیں بلکہ نفسیاتی اور معاشی بوجھ بھی بن چکا ہے۔ ایک طرف صنعتی صارفین کو ترجیح دی جا رہی ہے جبکہ دوسری جانب عام گھریلو صارفین بنیادی ضرورت سے بھی محروم ہیں۔
اہلیانِ جہلم نے حکومتِ وقت اور اعلیٰ حکام سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ سوئی گیس کی اعلانیہ اور غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ کا فوری خاتمہ کیا جائے اور سردی کے اس موسم میں عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کیا جائے، تاکہ شہریوں کا گھریلو بجٹ مزید متاثر نہ ہو اور وہ سکھ کا سانس لے سکیں۔


