زمین کس طور 2013 سے خود کو ’قیامت‘ کیلئے تیار کر رہی ہے؟

ایک بہت بڑی خلائی چٹان زمین کی طرف آرہی ہے۔ زمین سے اس کے تصادم کی صورت میں زمین کو غیر معمولی جانی و مالی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔

روس میں چیلیابنسک نامی شہابِ ثاقب کو تباہ ہوئے ایک عشرہ گزر چکا ہے۔ چیلیابنسک کے پھٹنے سے ڈیڑھ ہزار افراد زخمی ہوئے تھے اور خاصا مالی نقصان ہوا تھا۔

اب خلائی بسیط سے آنے والے ایک اور بڑے شہابِ ثاقب کا سامنا کرنے کے لیے زمین خود کو اچھی طرح تیار کر رہی ہے۔

13 اپریل 2029 کو Apophis زمین کے بہت قریب سے گزرے گا۔ ایک بڑے شہابِ ثاقب کو بہت قریب سے دیکھنے اور اس کا اچھی طرح جائزہ لینے کا یہ ایک اچھا موقع ہے۔ یوروپین اسپیس ایجنسی اس ٹاکرے کے حوالے سے مشن تیار کر رہی ہے۔

بروس ولس کی معروف مووی ’آرماگیڈن‘ میں ایک بہت بڑی خلائی چٹان کو زمین کی طرف آتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ فٹبال گراؤنڈ سے بھی بڑی اس چٹان کو زمین کے نزدیک پہنچنے سے پہلے ہی تباہ کرنے کی خاطر ایک مشن بھیجا جاتا ہے۔ اس مشن کے ارکان چٹان کو زمین سے بہت دور خلا میں تباہ کردیتے ہیں۔ ایپوفِس کے معاملے میں بھی کچھ ایسا ہی سوچا جارہا ہے۔

اس سلسلے میں دی انٹرنیشنل ایسٹیرائڈ وارننگ نیٹ ورک اور دی اسپیس مشن پلاننگ ایڈوائزری گروپ کی تشکیل کے لیے تکنیکی پیچیدگیاں دور کی جارہی ہیں۔

خلا میں ٹوٹے ہوئے ستاروں کے ٹکڑے بھٹکتے پھرتے ہیں۔ ایسی خلائی چٹانوں کو زمین سے بہت دور، خلائے بسیط ہی میں شناخت کرکے زمین سے ان کے تصادم کے امکان کا جائزہ لے کر مشن ترتیب دیے جاتے ہیں تاکہ زمین کو قیامت خیز نقصان سے بچایا جائے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button