Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • صفحۂ اول
  • جہلم
  • دینہ
    • منگلا
  • سوہاوہ
    • ڈومیلی
    • پڑی درویزہ
  • پنڈدادنخان
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • مزید
    • امیگریشن اور سفر
    • لائف اسٹائل
      • دلچسپ و عجیب
      • صحت
    • پاکستان
    • دنیا
    • ٹیکنالوجی
    • کاروبار
    • کھیل
    • تعلیم
    • سیاست
پڑھنا: ایک ایسی لڑکی کی کہانی جسے والدین نے 25 سال تک تاریک کمرے میں بند رکھا
شیئر کریں
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
فونٹ سائز تبدیل کریںAa
Jhelum UpdatesJhelum Updates
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر
سرچ
  • صفحۂ اول
  • ضلع جہلمضلع جہلم
    • جہلم
    • دینہ
    • سوہاوہ
    • پنڈدادنخان
    • منگلا
    • ڈومیلی
    • کھیوڑہ
    • جلالپور شریف
    • پڑی درویزہ
  • بک مارکس
    • My Bookmarks
    • Customize Interests
  •  
    • پاکستان
    • اوورسیز پاکستانی
    • امیگریشن اور سفر
    • سیاست
    • کاروبار
    • کھیل
    • دنیا
    • صحت
    • تعلیم
  • کالم و مضامین
  • ٹیکنالوجی
    • موبائل فون
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں

ایک ایسی لڑکی کی کہانی جسے والدین نے 25 سال تک تاریک کمرے میں بند رکھا

ویب ڈیسک
ویب ڈیسک
21 فروری, 2025
شیئر کریں
شیئر کریں

بلانچ مونیئر نامی لڑکی کی کہانی ایسی ہے جو کسی شخص کا بھی انسانیت پر سے اعتماد ختم کر سکتی ہے۔

بلانچ کی کہانی مئی 1901 میں منظر عام پر آئی، جب پیرس کے اٹارنی جنرل کو 25 سال پرانے کیس کے بارے میں ایک عجیب و غریب خط موصول ہوا۔

اس کے مندرجات اٹارنی جنرل کے لیے اتنے پریشان کن تھے کہ انھوں نے فوراً تحقیقات کا آغاز کیا اور چونکا دینے والے نتائج پر پہنچے۔

یہ سب مونیئر خاندان اور ان کی بیٹی بلانچ مونیئر سے متعلق تھا جنا کی معاشرے میں بڑی عزت اور اعلیٰ مقام تھا۔

بلانچ مونیئر 1849 میں میڈم لوئیس مونیئر اور چارلس مونیئر کے ہاں پیدا ہوئی۔ والدہ میڈم لوئیس معاشرے میں اپنے خیراتی کاموں کے لیے مشہور تھیں اور والد چارلس مونیئر مقامی آرٹس فیسیلیٹی کے انچارج تھے۔

بلانچ ایک سماجی کارکن، بہت نرم مزاج، اچھی طبیعت اور جسمانی طور پر خوبصورت لڑکی تھی جسے ایک بڑی عمر کے وکیل سے پیار ہو گیا تھا۔ اس کی اس حرکت نے اس کے والدین کو بہت ناراض کیا اور انہوں نے اس رشتے کو قبول نہیں کیا۔ بیٹی کو کئی بار سمجھایا لیکن وہ اپنی ضد پر ڈٹ گئی۔

معاشرے میں مونیئر خاندان کی شہرت کیوجہ سے بلانچ اکثر لوگوں کی نظروں میں رہتی تھی اور ایک دن اچانک وہ غائب ہو گئی جسے لوگوں نے فوراً محسوس کیا۔

جب لوگوں نے اس کے بارے میں پوچھا تو والدہ نے لوگوں کو بتایا کہ بلانچ سفر پر نکلی ہوئی ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ لوگوں نے لڑکی کے بارے میں سوال کرنا چھوڑ دیا اور اپنی دنیا میں مگن ہوگئے۔

لیکن پھر دو دہائی سے زائد عرصے کے بعد 1901 میں مقامی اٹارنی جنرل کو ایک گمنام خط آیا جس نے بلانچ کے ٹھکانے کی خوفناک حقیقت کو ظاہر کیا۔

خط میں لکھا تھا: محترم اٹارنی جنرل: مجھے یہ اعزاز حاصل ہورہا ہے کہ میں آپ کو ایک غیر معمولی سنگین کیس سے آگاہ کررہا ہوں۔

میں ایک غیر شادی شدہ عورت کی بات کر رہا ہوں جو مونیئر خاندان کے گھر میں بند ہے جو گزشتہ پچیس سالوں سے بھوکی ہے اور اپنی ہی غلاظت و گندگی میں زندگی گزار رہی ہے۔

خط موصول ہوتے ہی جلد ہی حکام نے گھر کی تلاشی لی۔ اگرچہ گھروالوں نے اہلکاروں کو اندر آنے کی کوششوں کی مزاحمت کی لیکن وہ بالآخر ناکام رہے۔

سیکورٹی اہلکاروں نے گھر کی تلاشی شروع کی اور محسوس کیا کہ اوپر والے دروازے سے بدبو آرہی ہے جو سختی سے بند تھا۔

پولیس دروازہ توڑ کر داخل ہوئی اور جو کچھ دیکھا اس پر یقین نہیں کر سکی۔

گھپ اندھیرے میں غلاظت کے درمیان برہنہ لڑکی بستر پر رسیوں سے بند تھی۔ سورج کی روشنی نے کمزور عورت کے ارد گرد سڑی ہوئی مچھلی، گوشت، روٹی کے ٹکڑے، پاخانوں اور کیڑے مکوڑوں کو ظاہر کیا۔

کئی دہائیوں میں یہ پہلا موقع تھا جب بلانچ کو کسی باہر کے لوگوں نے دیکھا تھا اور 1876 کے بعد پہلی بار اس نے سورج کی روشنی دیکھی تھی۔

سابق سماجی کارکن کے پاس اتنی طاقت بھی نہیں تھی کہ وہ بیت الخلا جا سکے جس کی وجہ سے وہ اپنے ہی فضلے میں گھری ہوئی تھی۔

یہ ایک معجزہ تھا کہ وہ ابھی تک زندہ تھی۔ سیکورٹی نے اس کی والدہ اور بھائی مارسل کو گرفتار کرنے کے بعد بلانچ کو فوری طور پر اسپتال منتقل کیا جبکہ والد کا انتقال کچھ سال پہلے ہوا تھا۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ بلانچ آزاد تو ہوگئی تھی لیکن بہت زیادہ نفسیاتی اور جسمانی اذیت کیوجہ سے وہ کبھی بھی نارمل زندگی نہیں گزار پائی۔

اس نے اپنی باقی زندگی بوئس کے ایک طبی ادارے میں گزاری اور 1913 میں 64 سال کی عمر میں اس کا انتقال ہو گیا۔

یہ مضمون شیئر کریں
Facebook Flipboard Pinterest Whatsapp Whatsapp Reddit Telegram لنک کاپی کریں
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں جواب منسوخ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

ہمیں فالو کریں

FacebookLike
XFollow
PinterestPin
InstagramFollow
YoutubeSubscribe
TiktokFollow
WhatsAppFollow
LinkedInFollow
SnapchatSubscribe
ThreadsFollow
BlueskyFollow
Weather
29°C
Jhelum
clear sky
29° _ 29°
51%
1 km/h
اتوار
35 °C
پیر
36 °C
منگل
39 °C
بدھ
39 °C
جمعرات
39 °C

تازہ ترین

سوہاوہ: کوہاٹ مسجد میں دہشت گرد حملہ افسوسناک ہے، شہداء کے اہلخانہ سے دلی ہمدردی ہے، راجہ محمد اویس خالد
19 ستمبر, 2026
جہلم: محکمہ ریونیو میں زیر التوا امور تیزی سے نمٹائے جانے لگے
18 ستمبر, 2026
جہلم میں تجاوزات کا پھیلاؤ برقرار، پیرا فورس کی کارکردگی پر شہریوں کے سوالات
18 ستمبر, 2026
27 ستمبر کے احتجاج کے تناظر میں جہلم میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف کارروائیاں تیز، 48 افراد گرفتار
18 ستمبر, 2026
جہلم: جی ٹی روڈ پر حادثات کی روک تھام کیلئے اہم اقدام، یوٹرنز کے قریب محفوظ سپیڈ بریکرز کی تنصیب جاری
18 ستمبر, 2026

شاید آپ یہ بھی پڑھنا پسند کریں

تھانے میں موجود چرس کو چوہے غذا سمجھ کر کھا گئے

17 مارچ, 2024

دلہن کی 55 کروڑ کی ساڑھی، 80 کروڑ کے زیورات اور ایک کروڑ کا میک اپ، بھارت کی مہنگی ترین شادی

20 مارچ, 2025

8 فٹ کی بلندی تک چھلانگ لگاکر امریکی بلی نے عالمی ریکارڈ قائم کرلیا

10 مئی, 2025

انوکھی شادی؛ 90 سالہ باپ اور بیٹا ایک ساتھ دولہا بن گئے

18 اپریل, 2025

اشتہارات اور خبروں کیلئے جہلم اپڈیٹس سے رابطہ کریں۔

  • [email protected]
  • [email protected]
تازہ ترین خبروں کیلئے ہمیں گوگل نیوز پر فالو کریں Follow us on Google News
  • Contact Us
  • Privacy Policy
  • Terms & Condition
  • About Us
  • Home

About US

The Largest News Network of Jhelum, Pakistan.
Quick Link
  • جہلم
  • دینہ
  • سوہاوہ
  • پنڈدادنخان
  • اوورسیز پاکستانی
  • کالم و مضامین
  • امیگریشن اور سفر

Subscribe US

Subscribe to our newsletter to get our newest articles instantly!

[mc4wp_form]
Jhelum UpdatesJhelum Updates
ہمیں فالو کریں
جہلم اپڈیٹس © 2023, تمام مواد کے جملہ حقوق محفوظ ہیں