جہلم پولیس نے پولیس کانسٹیبل کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے والے مبینہ منشیات فروش قاسم کو مبینہ پولیس مقابلے میں پارکردیا۔جہلم پولیس کے مطابق ملزم قاسم ساتھیوں کی فائرنگ سے جاں بحق ہوا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم میں پولیس کانسٹیبل عمر جاوید نے ٹاہلیانوالہ کے مقام پرمبینہ منشیات فروش قاسم کو پکڑا تو قاسم نے پستول نکال کر فائر کیے جو کانسٹیبل عمر جاوید کی ٹانگ پر لگے اس دوران ملزم قاسم بھی زخمی حالت میں گرفتار ہوا۔ جہلم پولیس نے بعدازاں اسلحہ برآمدگی کا بہانہ بنا کر مبینہ پولیس مقابلے میں قاسم کوپار کردیا۔
دوسری جانب ترجمان جہلم پولیس کاکہنا ہے ملزم قاسم کو اسلحہ کی برآمدگی کے بعد تھانے واپس لا رہے تھے کہ ملزم کے ساتھیوں نے ملزم کو چھڑانے کے لئے پولیس پارٹی پر فائرنگ کردی جس کے نتیجے میں اپنے ساتھیوں کی فائرگ سے ملزم قاسم زخمی ہوگیا، ملزم کو فوری طور پر ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال جہلم منتقل کیا گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔
جاں بحق ہونے والے ملزم کو گزشتہ روز اس وقت گرفتار کیا گیا تھا جب ملزم نے پولیس کانسٹیبل عمر جاوید کو مزاحمت کے دوران فائرنگ سے زخمی کیا تھا جس کی گرفتاری کی فوٹیج بھی منظر عام پر آچکی ہے۔

ملزم قاسم کی والدہ کا ایک ویڈیو بیان بھی سامنے آیا ہے جس میں وہ بتا رہی ہیں کہ کانسٹیبل عمر جاوید نے کچھ روز قبل دیگر اہلکاروں کے ہمراہ گھر میں چھاپہ مارا کچھ برآمد نہ ہوا تو پچاس ہزار روپے کی ڈیمانڈ کرتا رہا، بعد میں بیس ہزار روپے مانگے، میں نے کہا کہ کچھ برآمد ہی نہیں ہوا تو پیسے کس چیز کے؟ تم چلے جاؤ، بعد میں کانسٹیبل عمر جاوید پیغام بھی بھیجتا رہا۔
شہریوں نے مبینہ مقابلے میں قاسم کی ہلاکت پر چیف جسٹس پاکستان ،وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی پنجاب سے نوٹس لینے کامطالبہ کیا ہے۔


