جہلم: بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے 5 لاکھ نان فائلرز کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سمز بلاک کرنے کی منظوری دیدی ۔
تفصیلات کے مطابق فیڈرل بورڈ آف ریونیور نے جہلم سمیت ملک بھر میں 20 لاکھ سے زائد ٹیکس نادہندگان کی نشاندہی کردی ہے جس کے بعد پہلے مرحلے میں ٹیکس نادہندگان کی موبائل سمز بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، تاہم موبائل کمپنیوں نے ایف بی آر سے درخواست کی ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں سمز کو بلاک کرنا کمپنیوں کیلئے نقصان کا باعث بن سکتا ہے۔
موبائل کمپنیوں کی درخواست پر سمز بلاک کرنے کے عمل کو مختلف مراحل میں تقسیم کردیا گیا ہے، پہلے مرحلے میں 5 لاکھ صارفین کی سمز بلاک کی جائیں گی، چیئرمین ایف بی آر نے اس اقدام کی منظوری دیدی ہے جس کے بعد ایف بی آر نے اس حوالے سے قوانین تیار کرکے متعلقہ افسران کو بھجوادیئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایف بی آر اور پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے مشاورت کے بعد 4 لاکھ انڈر فائلرز کی شناخت کرلی ہے، یہ قابل ٹیکس آمدنی رکھنے کے باوجود ٹیکس ادا نہ کرنے والے صارفین ہیں، ان صارفین کو ایف بی آر کی جانب سے نوٹس بھجوائے گئے تھے مگر انہوں نے اس کے باوجود ٹیکس ریٹرنز جمع نہیں کروائے ، 1لاکھ افراد ایسے ہیں جن کی شناخت ایف بی آر کے براڈننگ ٹو ٹیکس بیس کے ذریعے کی گئی، ان 5 لاکھ افراد کے نام پر رجسٹرڈ موبائل سمز کو بلاک کردیا جائے گا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں ٹیکس چوروں کے خلاف بڑا کریک ڈاؤن شروع کرنے کا فیصلہ کرلیا گیا ہے، ایف بی آر نان فائلرز کے سم کارڈ بلاک کرنے سمیت ان کے ناموں پر موجود بجلی و گیس کی کنکشنز بھی منقطع کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔
ضلع جہلم سمیت ملک بھر میں ٹیکس گوشوارے جمع نہ کروانے والوں کے خلاف ایکشن کی تیاریاں حتمی مراحل میں داخل کرلی گئیں ہیں اور 145 ڈسٹرکٹ ٹیکس آفیسرز کو خصوصی اختیارات سونپ دیئے گئے ہیں جو نان فائلرز کے خلاف سیکشن 114 بی کے تحت کارروائیاں عمل میں لائیں گے۔



ایف بی آر نے جو منظوری دی ھے اس بات کی کیا گارنٹی ھے کہ بڑے بڑے مگرمچھوں کے خلاف بھی یہی کاروائی کی جاۓ گی جو کہ عام آدمی چھوٹے دکانداروں اور عام شہریوں کے خلاف کیا جا رھا ھے یہ کریک ڈاؤن ؟
میرا ایک سوال ھے ایف بی آر کے لوگوں سے ٹیکس کا پیسہ کس مد میں خرچ کیا جا رھا ھے ؟ 1947 سے لیکر 2024 تک اکھٹا کیا وہ رقوم کہاں کہاں خرچ کۓ؟
سنٹرل بورڈ آف ریونیو آج تک ٹیکس کی رقم کن عوامی فلاحی منصوبوں پر خرچ کۓ؟ ان نام نہاد اشرافیہ جن کی تعداد 50 فیصد سے زیادہ ھے جو کہ عیاش طبقہ ھے ۔وہ لوگ جو پورا ٹیکس نہیں دے دیتے یا بالکل نہیں ادا نہیں کرتے کیا ان لوگوں کے بھی سمز اور بینک اکاؤنٹس کو بلاک کیا جاۓ گا چاھے وہ سیٹنگ جرنلز برگیڈیئر ز سیاسی لوگ سیٹنگ گورنمنٹ کے لوگ ارکان پارلیمنٹ ججز تمام ذمہ داران بشمول ایف بی آر کے اپنے لوگ کیوں نہ ھو , کیا سب کے خلاف اے کراس دہ بورڈ میرٹ کے تحت بلا تفریق کاروائی کی جاۓ گی ۔؟
میں مطالبہ کرتا ھوں وفاقی اور صوبائی ٹیکس محصولات کی مد میں مروجہ معلومات عامہ عوام کے حق آگاہی آرٹیکل 1973 کے آئین کے مطابق مطلوبہ معلومات مصارف خرچ بچت ترقیاتی منصوبوں کی تفصیلات کے تحت سب معلومات کو پبلک کیا جاۓ یہاں گلیوں محلوں مین ھائی ویز ایکسپریس ویز میں لائٹس کے کھمبے نصب ھیں مگر گھپ اندھیرا ھے۔وفاقی دارلحکومت کا یہ حال ھے تو چھوٹے شہروں کا اللّٰہ ھی حافظ ھے۔جھے امید ھے کہ ایف بی آر ،وزارت خزانہ ،وفاق اور صوبائی حکومتیں اپنی کارکردگی کی رپورٹس سچائی پر مبنی پبلک کرے گی جن میں امن و امان ،بےروزگاری آیئن کے آرٹیکل 18 کے تحت حق کاروبار عوام پر ٹیکسوں کی بھرمار تو ھے کم از کم یہ تو بتایا جائے کہ پاکستانی عوام کو کیا سہولیات فراھم کی ھے کم ازکم ایک ھی بتا دیں ۔
بات تو سچ ھے مگر بات ہے رسوائی کی؟ سچ دکھایا تو برا مان گۓ۔
بے روزگاری مہنگائی بد امنی عوام کی فی کس آمدن بڑھانے کے لۓ کیا کیا اقدامات کۓ حقائق پر مبنی ھو نا کہ کاغذ کی حد تک نہ ھو؟
حکمرانوں اور اشرافیہ کی من مانیاں ناز نخروں کے بجائے سرکاری وسائل کا استعمال غلط نہ ھو سرکاری گاڑیوں کا استعمال مفت بجلی جیسا کہ گیس کی قیمتیں بل کا سائز چھوٹا مگر اس میں درج رقوم بہت زیادہ آمدن دس روپے اور بلز کئی گنا زیادہ ۔سکولوں کانوں یونیورسٹیوں کی فیسیں ادویات کی قیمتیں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں پر نظر ثانی ، کیا عام عوام نے اس ملک کی بگڑی ھو ئی اشرافیہ کی من مانیوں اور عیاشیوں کا ٹھیکہ تو نہیں اٹھایا جنوں نے تجوریاں بھری ھیں ان سے احتساب سب سے کیا جاۓ۔