جہلم: گندم کی خریداری پر حکومتی پالیسی مبینہ تعطل کا شکار، محکمہ خوراک کے سنٹر میں تیاریاں مکمل، افسران و ملازمین غائب، کسان گندم گھروں میں سٹاک کرنے پر مجبور ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ضلع بھر میں ہزاروں ایکڑ اراضی پر کاشت کی گئی گندم کی فصل کٹائی کے بعد گھائی کا عمل بھی مکمل ہونے کو ہے جبکہ حکومت پنجاب کی جانب سے جہلم سمیت صوبہ بھر کے کسانوں سے گندم کی خریداری کے لئے کوئی جامعہ پالیسی سامنے نہ آنے کی وجہ سے کسانوں نے گندم گھروں میں سٹاک کرنا شروع کر دی ہے۔
ضلع بھر کے زمینداروں اور کسانوں سے گندم کی خریداری کے لئے مقامی سطح پر قائم مراکز میں محکمہ خوراک کی جانب سے تمام تیاریاں بھی مکمل کی جا چکی تھیں مگر مذکورہ مراکز میں ڈیوٹیاں دینے والے افسران و ملازمین غائب نظر آتے ہیں۔
سرکاری سطح پر گندم کی خریداری کے معاملہ پر زمینداروں کا کہنا ہے کہ گندم کی خریداری پر پنجاب حکومت کی پالیسی مسلسل تعطل کا شکار ہونے کی وجہ سے ہمیں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
تاہم محکمہ فوڈ کے ذمہ داران نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ حکومتی احکامات موصول ہوتے ہیں کسانوں کو باردانہ مہیا کردیا جائیگا اور سرکاری نرخوں پر گندم خرید لی جائے گی ۔


