وفاقی حکومت نے جون کے آخری دن پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کا فیصلہ کرلیا ہے، جو یکم جولائی سے نافذ العمل ہوگا۔ اس تاریخ کو نیا فنانس بل بھی نافذ کیا جائے گا۔
حکومت نے 12 جون کو مالی سال 2024-25 کا بجٹ پیش کیا تھا اور اس کے بعد 31 جون کو پہلی بار پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں پر نظرثانی کرے گی۔
فنانس بل میں پیٹرولیم لیوی میں 20 سے 80 روپے تک اضافے کی تجویز دی گئی ہے، جو حکومت کے لیے اہم آمدنی کا ذریعہ ہے۔
اس کا مقصد بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے مزید بیل آؤٹ پیکج حاصل کرنا ہے۔
پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی تجویز
مجوزہ فنانس بل 2024 کے مطابق، پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل (HSD) دونوں پر پیٹرولیم لیوی کی زیادہ سے زیادہ شرح 80 روپے فی لیٹر مقرر کی گئی ہے۔ اس اضافے کا مقصد حکومت کی آمدنی بڑھانا اور مالیاتی استحکام کو یقینی بنانا ہے۔
محصولات کا ہدف
حکومت نے آئندہ مالی سال 2024-25 کے لیے فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کے لیے محصولات کا ہدف 12.97 ٹریلین روپے مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف پورا کرنے کے لیے مختلف اقدامات کیے جا رہے ہیں، جن میں پیٹرولیم لیوی میں اضافہ بھی شامل ہے۔
موجودہ پیٹرول کی قیمتیں
جون 2024 ءکے شروع میں حکومت نے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں بالترتیب 10 اعشاریہ 20 روپے اور 2 اعشاریہ 33 روپے کی کمی کی تھی۔ نظرثانی کے بعد فی الحال پیٹرول کی قیمت 258 اعشاریہ 16 روپے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 267 اعشاریہ 89 روپے فی لیٹر ہے۔
یکم جولائی سے قیمتوں میں ممکنہ اضافہ
اگر بجٹ میں پیٹرولیم لیوی میں اضافے کی تجویز کو منظور کیا گیا تو یکم جولائی سے پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہونے کا امکان ہے۔ عوام کو ممکنہ قیمتوں میں اضافے کے باعث پریشانی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
عوام کے لیے چیلنجز
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے نہ صرف ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھیں گے بلکہ اس کا اثر دیگر ضروریات زندگی پر بھی پڑے گا۔ مہنگائی میں اضافے کے باعث عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
حکومت کا موقف
حکومت کا کہنا ہے کہ پیٹرولیم لیوی میں اضافہ ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ اس اقدام سے حاصل ہونے والی آمدنی کو مالیاتی خسارے کو کم کرنے اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں پر خرچ کیا جائے گا۔
پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں متوقع اضافے سے عوام کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے، تاہم حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ملکی معیشت کی بہتری کے لیے ضروری ہے۔ عوام کو ممکنہ قیمتوں میں اضافے کے باعث پیش آنے والے چیلنجز کے لیے تیار رہنا ہوگا۔


