جہلم شہر اور چاروں تحصیلوں میں غیر قانونی پٹرول ایجنسیوں کی بھرمار، موت کے سوداگروں کوسول ڈیفنس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی سرپرستی حاصل لاکھوں افراد کی جانیں داؤ پر لگ گئیں۔
تفصیلات کے مطابق شہر سمیت ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں غیر قانونی پٹرول ایجنسیوں کی بھر مار ہے۔ شہریوں کے سروں پر خوف کے سائے منڈلانے لگے ، غیر قانونی پٹرول ایجنسیوں کے مالکان مذموم دھندہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق غیر قانونی ایجنسیوں پر کھلا پٹرول میسر آنے سے آتشزدگی کے واقعات اکثرو بیشتر رونما ہو چکے ہیں، کئی قیمتی جانیں لقمہ اجل بن چکی ہیں،سول ڈیفنس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ذمہ د اران کی عدم دلچسپی کے باعث ضلع بھر میں مکرو دھندہ جاری ہے۔
ضلع بھر میں قائم غیر قانونی پٹرول ایجنسیوں کے مالکان کومتعلقہ محکمے کے ذمہ داران اور ضلعی انتظامیہ کی پشت پناہی حاصل ہے جس کے باعث سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ مبینہ طور پرمالکان کیخلاف کارروائیاں کرنے سے گریزاں ہیں، غیر قانونی پٹرول ایجنسیوں پر دستیاب پٹرول انتہائی غیر معیاری اور سمگل شدہ ہوتا ہے جس سے گاڑیاں چندماہ میں کھٹارہ بن جاتی ہیں۔
پٹرول ایجنسیاں گرانفروشی کا سبب بھی بن رہی ہیں دس سے پندرہ روپے فی لیٹر مہنگا پٹرول فروخت کرنے کے ساتھ ساتھ پیمانے میں بھی کمی کی گئی ہے لیکن کوئی پوچھنے والا نہیں۔ میڈیا کی بار با نشاندہی کے باوجود مذکورہ غیر قانونی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہ لانا سول ڈیفنس سمیت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی پر گہر ا سوالیہ نشان ہے۔
جہلم شہر کی سماجی، رفاعی، فلاحی، مذہبی تنظیموں کے عمائدین سمیت شہری تنظیموں نے وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف، چیف سیکرٹری پنجاب، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم سے ضلع بھر میں موجود غیر قانونی پٹرول ایجنسیوں کے خلاف مقدمات درج کرنے اور آلات قبضے میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔


