امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ نماز اللہ کریم کا پسندیدہ عمل ہے۔فرائض میں سب سے بڑا فرض ہے جو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے اگر نماز بھی پڑھ رہے ہیں اور برائی بھی ساتھ چل رہی ہے پھر دیکھیں اس کا اہتمام کیسا ہے۔ وضو،طہارت،خشوع و خضوع،خلوص کیسا ہے اگر سب کی تکمیل بھی ہوگئی پھر بھی نماز اپنے اثرات نہیں چھوڑ رہی پھر نیت کو دیکھیں کہیں نیت یہ تو نہیں کہ لوگ مجھے نمازی کہیں۔ اگر نیت میں فساد آگیا ہے پھر نماز اپنے اثرات کیسے چھوڑے گی۔
امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نے جمعتہ المبارک کے روز خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ دنیا امتحان ہے اس میں ہر شئے کا خیال رکھنا ہے ہمیں انہی ضابطوں کو اختیار کرنا ہوگا جو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمائے ہیں۔ہر قول و فعل میں دیکھیں کہ اس پہلو میں میرے لیے کیا حکم ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپنے اندر سے دل سے حق کی طلب پیدا ہو تو اللہ کریم محروم نہیں فرماتے وہ اسباب پیدا فرما دیتے ہیں۔اپنی خوراک کی پاکیزگی کا خیال رکھیں۔آج معاشرے میں بے حیائی عام ہے جس کے بہت اثرات ہیں ہمارے مزاج بدل گئے ہیں اب لوگ اللہ کریم پر اعتراض کرتے نظر آتے ہیں کہ ایسا کیوں ہے اور ویسا کیوں ہے؟ہم دعوی ایمانی تو کرتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ہمارا عمل نہیں۔
امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ اللہ کریم نے ہر دل میں یہ اہلیت رکھی ہے کہ وہ حق کو پہچان سکے اختیار کر سکے۔پھر گردو پیش کے حالات اثرانداز ہوتے ہیں،شیطان کے وساوس ہوتے ہیں لیکن فیصلہ ہر ایک کا ذاتی ہوتا ہے۔قلوب بھی اللہ کریم کے دست قدرت میں ہیں جیسے چٹکی میں کوئی شئے ہوتی ہے وہ جب چاہے بدل دے۔لیکن اس کے لیے انابت شرط ہے وہ بھی خلوص کے ساتھ۔اللہ کریم ہمیں صحیح شعور عطا فرمائیں۔
آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا بھی فرمائی۔


