جہلم شہر اور گردونواح میں موبائل انٹرنیٹ سروس انتہائی سست روی کا شکار ہے، جس کی وجہ سے زیرتعلیم طلبہ اور نوجوان شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔
نوجوان اور طالبات انٹرنیٹ کے ذریعے بیرونِ ملک سے روزانہ کی بنیاد پر اجرت حاصل کر کے اپنے خاندانوں کی کفالت کر رہے ہیں، لیکن صرف ایک دن کی سست انٹرنیٹ سروس سے انہیں ہزاروں روپے کا نقصان برداشت کرنا پڑتا ہے۔
ذرائع کے مطابق انٹرنیٹ کے ذریعے آن لائن کام کرنے والے اعلی تعلیم یافتہ نوجوان اور زیرتعلیم طلبہ وطالبات اس وقت ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھے ہیں کیونکہ سست رفتار کنکشن کی وجہ سے وہ اپنے آن لائن کام کو مؤثر طریقے سے انجام نہیں دے پا رہے۔
نوجوانوں نے میڈیا نمائندگان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو انٹرنیٹ سروس کے بہتر معیار کے لیے مستقل بنیادوں پر اقدامات کرنے کی اشد ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئے روز وطن عزیز کو انٹرنیٹ کے مسائل کا سامنا رہتا ہے، جس کی وجہ سے دوسرے ممالک کی کمپنیوں سے کام کرنا نہایت مشکل ہو گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ موبائل انٹرنیٹ کی سست رفتار یا عدم دستیابی سے نہ صرف روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں بلکہ تعلیمی سرگرمیوں میں بھی خلل پڑ رہا ہے۔ نوجوانوں کا مطالبہ ہے کہ متعلقہ حکام فوری طور پر اس اہم مسئلے کا حل نکالیں تاکہ طلبہ اور نوجوان مؤثر طریقے سے تعلیم اور آن لائن کام جاری رکھ سکیں۔


