جہلم: وزیر اعلیٰ پنجاب کے ڈیجیٹل گورننس ویژن کو عملی جامہ پہنانے کے لیے چیف سیکرٹری پنجاب زاہد اختر زمان کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا، جس میں ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے بذریعہ ویڈیو لنک شرکت کی۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ مارچ 2026 تک ای بز پورٹل پر دستیاب سرکاری خدمات کی تعداد بڑھا کر 310 کر دی جائے گی تاکہ شہریوں کو تمام سہولیات ایک ہی ڈیجیٹل پلیٹ فارم پر میسر آ سکیں۔
اجلاس کے دوران چیف سیکرٹری زاہد اختر زمان نے ہدایت جاری کی کہ یکم فروری 2026 سے ای بز پورٹل کی تمام سہولیات صرف آن لائن دستیاب ہوں گی اور کسی بھی درخواست گزار کو دفتری امور کے لیے متعلقہ دفتر آنے کی ضرورت نہیں ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ صوبائی محکموں میں کامیاب نفاذ کے بعد اب تمام فیلڈ دفاتر اور ذیلی اداروں کو بھی فوری طور پر ای فاس (e-FOAS) سسٹم پر منتقل کیا جائے، تاکہ سرکاری امور میں شفافیت، تیزی اور جوابدہی کو یقینی بنایا جا سکے۔
اجلاس میں چیئرمین پنجاب انفارمیشن ٹیکنالوجی بورڈ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ای بز پورٹل پر اس وقت 15 محکموں کی 210 سرکاری خدمات فراہم کی جا رہی ہیں، جبکہ ساڑھے 14 ہزار سے زائد درخواستوں پر منظوری کا عمل مکمل طور پر ڈیجیٹل سسٹم کے ذریعے مکمل کیا جا چکا ہے۔
چیف سیکرٹری نے اس موقع پر کہا کہ سرکاری امور میں شفافیت اور عوامی سہولت کے لیے پنجاب حکومت کے آئی ٹی اقدامات نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک مثال ہیں۔

اجلاس کے بعد ڈپٹی کمشنر جہلم میر رضا اوزگن نے ضلعی افسران کو ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے اس انقلابی ڈیجیٹل پروگرام کے ثمرات عام آدمی تک پہنچانے کے لیے تمام محکمے اپنی خدمات کو فوری طور پر ڈیجیٹلائز کریں۔ انہوں نے زور دیا کہ یکم فروری سے نافذ ہونے والے نئے آن لائن نظام کی بھرپور تشہیر کی جائے تاکہ شہریوں کو سرکاری دفاتر کے غیر ضروری چکروں سے نجات مل سکے اور انہیں گھر بیٹھے سہولیات میسر آئیں۔


