جہلم: آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے انتخابات کے قریب آتے ہی ضلع جہلم کی چاروں تحصیلوں میں مقیم کشمیری مہاجرین کے حلقوں میں سیاسی سرگرمیوں میں نمایاں تیزی آ گئی ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کے امیدوار اور کارکن ووٹرز سے رابطے، انتخابی مہم اور کارنر میٹنگز میں مصروف ہیں، جبکہ مہاجرین کے دیرینہ مسائل بھی ایک مرتبہ پھر انتخابی بحث کا اہم موضوع بن گئے ہیں۔
مقامی حلقوں کے مطابق گزشتہ پانچ برس کے دوران عوامی رابطوں میں کم نظر آنے والے بعض سابق منتخب نمائندے اور موجودہ امیدوار اب ووٹرز سے ملاقاتیں کر رہے ہیں اور ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوششوں میں مصروف ہیں۔ بعض ووٹرز کا کہنا ہے کہ ہر انتخاب میں ایک جیسے وعدے دہرائے جاتے ہیں، تاہم ان کے بنیادی مسائل اب بھی حل طلب ہیں، جس کے باعث عوام میں مایوسی پائی جاتی ہے۔
مہاجرین کے مختلف حلقوں میں گزشتہ کئی دہائیوں کے ترقیاتی فنڈز کے آڈٹ کا مطالبہ بھی سامنے آ رہا ہے، جبکہ بعض افراد کی جانب سے مہاجرین کے لیے مختص 12 نشستوں سے متعلق مختلف آراء اور مطالبات بھی اظہارِ خیال کی صورت میں سامنے آئے ہیں۔
مقامی مبصرین کے مطابق مہاجرین کو درپیش معاشی مشکلات، بڑھتی ہوئی مہنگائی، بجلی و گیس کے بلوں، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور اشیائے ضروریہ کی مہنگائی جیسے مسائل انتخابی ماحول پر اثر انداز ہو رہے ہیں اور مختلف سیاسی جماعتوں کی کارکردگی پر بھی عوامی سطح پر بحث جاری ہے۔
بعض مقامی سرویز اور سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق ضلع جہلم میں مہاجرین کی دونوں انتخابی نشستوں پر مختلف جماعتوں کے امیدواروں کے درمیان سخت مقابلے کی توقع کی جا رہی ہے۔ تاہم انتخابی نتائج کا حتمی فیصلہ ووٹرز کی رائے اور پولنگ کے روز ڈالے جانے والے ووٹوں سے ہی ہوگا۔


