جہلم: حکومت کی جانب سے کفایت شعاری مہم کے سلسلے میں نافذ کیے گئے سمارٹ لاک ڈاؤن کے دوران قانون نافذ کرنے والے اداروں کے بعض اہلکاروں کے مبینہ طرزِ عمل پر سوالات اٹھنے لگے ہیں۔
ذرائع کے مطابق رات 9 بجے تک دکانیں بند نہ کرنے والے دکانداروں کو مبینہ طور پر ڈرا دھمکا کر ہراساں کیا جاتا ہے، جبکہ شٹر گرا کر کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے والے دکانداروں کو مبینہ طور پر اس صورتحال سے فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل اضافے اور معاشی مشکلات سے نمٹنے کے پیشِ نظر حکومت کی جانب سے چند روز قبل سمارٹ لاک ڈاؤن کا آغاز کیا گیا، جس کے تحت تمام کاروباری مراکز کو مقررہ اوقات کے مطابق بند کرنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔
حکومتی ہدایات کے تحت عام کاروباری مراکز کو رات 9 بجے تک بند کرنے کا پابند کیا گیا ہے، جبکہ شادی ہالز کے لیے رات 10 بجے اور بیکریوں و ریسٹورنٹس کے لیے رات 11 بجے تک کا وقت مقرر کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ہوم ڈیلیوری کی سہولت رات گئے تک جاری رکھنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے تحت مقررہ اوقات میں کاروباری مراکز بند کروانے کی ذمہ داری قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکار انجام دے رہے ہیں، تاہم بعض مقامات پر نچلے درجے کے عملے کی جانب سے مبینہ طور پر اس عمل کو ذاتی مفادات کے حصول کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق جو دکاندار مقررہ وقت پر اپنی دکانیں بند نہیں کرتے، انہیں مبینہ طور پر ڈرا دھمکا کر اور ہراساں کیا جاتا ہے، جبکہ بعض بااثر افراد کی جانب سے شٹر گرا کر کاروباری سرگرمیاں جاری رکھنے کے باوجود ان کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔
ذرائع کے مطابق قانون کی خلاف ورزی کرنے والے بعض بااثر افراد کے خلاف کارروائی کرنے کے بجائے انہیں مبینہ طور پر ریلیف فراہم کیا جانا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان بن رہا ہے۔ شہریوں اور کاروباری حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ سمارٹ لاک ڈاؤن کے نفاذ میں یکساں پالیسی اختیار کی جائے اور مقررہ اوقات کی خلاف ورزی کرنے والے تمام افراد کے خلاف بلاامتیاز کارروائی عمل میں لائی جائے، تاکہ حکومتی احکامات پر شفاف انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔


