جہلم میں حالیہ سیلاب کو جواز بنا کر گرانفروشوں اور ذخیرہ اندوزوں نے من مانی شروع کر دی۔
سبزی، پھل، کریانہ، دودھ اور گوشت سمیت اشیائے خوردونوش دگنی قیمتوں پر فروخت کی جانے لگیں۔ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس اور متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ شہری مہنگائی کی چکی میں پسنے لگے ہیں۔
شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ماہ آنے والے سیلاب کو بنیاد بنا کر دکانداروں نے سرکاری نرخنامے کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اشیائے ضروریہ کی قیمتیں آسمان پر پہنچا دی ہیں۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ سبزی اور پھل بیچنے والے یہ دعویٰ کر کے گاہکوں کو مطمئن کرتے ہیں کہ تمام اجناس سیلاب زدہ علاقوں سے آتی ہیں جہاں فصلیں اجڑ گئی ہیں، لہٰذا نرخ بڑھنا لازمی ہے۔ اس طرح دکاندار اشیاء دگنی قیمتوں پر فروخت کر کے شہریوں کی جیبوں کا صفایا کر رہے ہیں۔
شہریوں نے الزام لگایا ہے کہ پرائس کنٹرول مجسٹریٹس گرانفروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن کرنے کی بجائے محض ڈنگ ٹپاؤ پالیسی پر گامزن ہیں، جس کے باعث دکانداروں کے حوصلے مزید بلند ہو رہے ہیں۔ عوام نے بتایا کہ انتظامیہ کا چیک اینڈ بیلنس کا نظام مکمل طور پر مفلوج نظر آ رہا ہے جس کا فائدہ دکاندار بھرپور طریقے سے اٹھا رہے ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلیٰ پنجاب سے فوری نوٹس لینے اور گرانفروشی و ذخیرہ اندوزی میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائیاں کرنے کا مطالبہ کیا ہے تاکہ مہنگائی کے ستائے عوام کو ریلیف فراہم کیا جا سکے۔


