جہلم: موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی جہلم کے لنڈا بازاروں میں خریداروں کا رش بڑھ گیا۔
جہلم شہر اور گردونواح کے علاقوں سے شہری خصوصاً خواتین بڑی تعداد میں سستے کپڑوں اور جوتوں کی تلاش میں لنڈا بازار کا رخ کرنے لگے ہیں۔ تاہم اس سال لنڈے میں بھی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی دکھائی دے رہی ہیں، جس نے متوسط اور غریب طبقے کے لیے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔
مہنگائی کے ستائے عوام کا کہنا ہے کہ نئے کپڑوں کی قیمتیں اتنی زیادہ ہو گئی ہیں کہ اب وہ صرف پرانے کپڑوں کے بازار سے ہی کچھ خریدنے کے قابل رہ گئے ہیں۔ ایک خریدار خاتون نے بتایا کہ “پہلے جو چیز 50 یا 100 روپے میں مل جاتی تھی، اب وہی 500 روپے سے کم نہیں ملتی۔ بعض صاف ستھرے کپڑوں کے تو دو، دو ہزار روپے مانگے جا رہے ہیں۔”
خواتین خریداروں کا کہنا تھا کہ مہنگائی نے سفید پوش طبقے کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ “اب تو لنڈا بازار میں بھی ریلیف نہیں ملا، غریب کہاں جائے؟” ایک اور خاتون نے شکوہ کیا۔
دوسری جانب دکانداروں کا کہنا ہے کہ ان کے اخراجات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ایک دکاندار نے بتایا کہ “اس سال کنٹینرز کے کرایے تین گنا بڑھ چکے ہیں، اسی وجہ سے قیمتیں بڑھانا مجبوری ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ “گاہک بحث کرتے ہیں، لیکن موجودہ حالات میں ہم بھی نقصان برداشت نہیں کر سکتے۔”
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ سے اپیل کی ہے کہ وہ لنڈا بازار میں بھی قیمتوں کو اعتدال میں رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کرے تاکہ سردی میں غریب طبقہ بھی سستے کپڑوں سے مستفید ہو سکے۔


