برطانوی حکومت ویزا پالیسی پر نظرثانی کرے، کونسلر راجہ اسلم

لوٹن: سابق ڈپٹی لیڈر لوٹن کونسل اور کنزرویٹو پارٹی کے کونسلر راجہ محمد اسلم خان نے برطانوی وزیراعظم رشی سوناک اور کنزرویٹو پارٹی حکومت کے دیگر ذمہ داران سے ویزا پالیسی پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔

راجہ محمد اسلم خان نے کہا کہ نیا قانون جون تک نافذ نہیں ہو رہا ہے۔ اور ہمارے پاس لابنگ کرنے اور حکومت سے قانون میں ترمیم کرانے کا وقت ہے ،اس لیے کمیونٹی اس عرصے میں بھرپور لابنگ کرے۔

راجہ محمد اسلم خان نے کہا کہ برطانیہ ایک ملٹی کلچرل سوسائٹی ہے جن کی ایک قابل ذکر تعداد اور خاص طور پر آزاد کشمیر اور پاکستان سے تعلق رکھنے والے کئی کنبے جو کئی دہائیوں سے برطانیہ میں رہائش پذیر ہیں وہ خاندانی ویزا پالیسی میں حالیہ تبدیلیوں کے حوالے سے شدید تشویش کا اظہار کر رہے ہیں جس میں نئی آمدنی برائے خاندانی ویزا جس کی فیس 18600پونڈ سے بڑھ کر38700 پونڈ کر دی گئی ہے۔

راجہ محمد اسلم خان نے کہا کہ وہ جہاں کنزرویٹو پارٹی کا حصہ ہوتے ہوئے اس جماعت کی پالیسیوں اور منشور پر اعتماد کا اظہار کرتے ہیں تاہم وہ ایک جمہوری جماعت کا ممبر ہونے کی حیثیت سے یہ بھی ضروری سمجھتے ہیں کہ جہاں اور جب بھی وہ کوئی مسئلہ دیکھیں اس کو بھی اپنی پارٹی کی ہائی کمان تک پہنچائیں یہ ان کی ذمہ داری ہے اور اس تناظر میں وہ سمجھتے ہیں کہ جہاں حکومت کے امیگریشن کے نظام کو کنٹرول کرنے کیلئے بعض اقدامات ناگزیر تھے۔

انہوں نے کہا کہ تاہم یہ بھی پیش نظر رہنا چاہئے تھا کہ نئی حد برطانیہ کی اوسط سالانہ آمدنی سے کہیں زیادہ ہے ، یہ پالیسی اوسط آمدنی والے خاندانوں کو نشانہ بناتی ہے جس سے بالخصوص ہمارے آزاد کشمیر اور پاکستان کے علاوہ کئی دیگر پسماندہ کمیونٹیز کے کئی خاندانوں کو آپس میں علیحدہ کرنے کا خطرہ ہے اس سے کئی خاندان جو بدستور بیک ہوم اپنے بچوں کے رشتے کرتے ہیں وہ بہت متاثر ہوں گے۔

راجہ محمد اسلم خان نے کہا کہ حکومت کے علم میں ہونا چاہئے کہ برطانیہ میں بعض کمیونٹیز جس طرح کے آزاد کشمیر اور پاکستان کے باشندے ہیں یہ اپنے بچوں کے زیادہ تر بالغ ہوتے ہی شادی کرتے ہیں جبکہ ایک نئے گریجویٹ شخص کی تنخواہ حکومت کی نئی حد سے میچ نہیں کرتی اس لیے اس اقدام کو واپس لیا جائے اور کئی خاندانوں کی دعائیں لی جائیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button