ماں کا دودھ، نوزائیدہ بچے کی بہترین غذا

جس طرح ایک پڑھی لکھی ماں ایک تعلیم یافتہ قوم کی ضامن ہے اسی طرح ایک تندرست و توانا بچہ بھی صحت مند معاشرے کی بنیاد ہے۔

ماں کا دودھ نومولود بچے کے لیے خالق کائنات کی جانب سے ایک انمول تحفہ ہے۔ جیسے کسی مہمان کے گھر آنے پر میزبان پذیرائی میں کوئی کسر نہیں رکھتے اور اس کے لیے مختلف قسم کے پکوان بناتے ہیں تو اللہ تعالٰی کیسے ایک ایسے مہمان کی آمد پر کمی رکھے گا جسے وہ فرشتوں اور جنوں سے سجدے کراتا ہے۔

شکم مادر سے لے کر دانت نکلنے کے مراحل تک اس نے اپنے اس معصوم فرشتے کی میزبانی کا بہت عمدہ انتظام کیا، نوزائیدہ بچے کی نازک حالت کے پیش نظر ماں کے دودھ میں مختلف قسم کے اجزاء شامل کئے جن کا نعم البدل بنانا ناممکن ہے۔

مگر جو انسان اس نومولود مہمان کا میزبان قرار پایا ہے اس کی حق تلفی کے ساتھ احکام خداوندی کی خلاف ورزی کا مرتکب بھی ہو رہا ہے۔

دنیا میں ترقی کے ساتھ ماؤں کا اپنے بچوں کو دودھ پلانے کا رحجان بھی کم ہوا ہے۔ پاکستان نیشنل نیوٹریشن کے ایک سروے کے مطابق ہر پانچ میں سے ایک گھر میں نوزائیدہ بچے کو ماں کا دودھ نہیں پلایا جاتا۔ جبکہ 48 فیصد مائیں صرف پانچ ماہ تک اپنا دودھ پلاتی ہیں۔ سندھ میں بچوں کو چھاتی کا دودھ پلانے کی شرح دوسرے علاقوں سے نسبتاً زیادہ ہے جب کہ صوبہ پنجاب ملک کی کم ترین شرح پر ہے۔

چھاتی کا دودھ پینے سے دنیا بھر میں سالانہ سات لاکھ سے زائد بچوں کی جانیں بچائی جاسکتی ہیں، ان میں زیادہ تر چھ ماہ سے کم عمر کے بچے شامل ہیں۔ ماں کے دودھ میں معدنیات، امائنو ایسڈ، وٹامن اور کاربوہائیڈریٹ کے ساتھ نیوکلیوٹائیڈ بھی شامل ہیں۔

نیوکلیوٹیڈ ایک نامیاتی مرکب ہے اور جسم کے سیل میں ڈی این اے کے بننے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اس کے علاوہ پروٹین، فیٹی ایسڈز، ہارمونز، بیکٹیریا اور شکر بھی شامل ہے۔ یہ قدرتی اجزاء بچے کی ذہنی اور جسمانی نشوونما میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور چھ ماہ تک اس کی غذائی ضروریات مکمل کرتے ہیں۔

ماں کو چاہیے کہ پیدائش کے ایک گھنٹے کے اندر اندر بچے کو اپنا دودھ پلانا شروع کردے اور ہر دو گھنٹے کے بعد دونوں چھاتیوں سے سات سے پندرہ منٹ تک دودھ دیتی رہے۔ اگر کسی وجہ سے دودھ پلانے میں مشکل پیش آئے تو دودھ نکال کر چمچ سے پلایا جاسکتا ہے اور اس دودھ کو فریج میں تقریباً دو دن تک محفوظ کیا جا سکتا ہے۔

جب کہ فریزر میں رکھا دودھ چھ ماہ تک قابل استعمال ہوسکتا ہے۔ البتہ اسے گرم کرنے سے اس کی افادیت کم ہو سکتی ہے۔

ملازمت پیشہ خواتین کو بھی چاہیے کہ اگر بچے کو کام والی جگہ ساتھ لے جانا ممکن نہ ہو تو اپنی غیر موجودگی میں بچے کو پلانے کے لیے دودھ فریج میں رکھ سکتی ہیں۔ بصورت دیگر حکومت اور دیگر کمپنی مالکان کی ذمہ داری ہے کہ وہ خواتین کے لیے ایسی جگہ کا انتظام کرے جہاں کام کے دوران وہ اپنے بچے کو دودھ پلا سکیں۔

بچے کو اس کے بنیادی حق سے بالکل بھی محروم نہیں کرنا چاہیے۔ اگر کسی بیماری کی وجہ سے دودھ دینا ممنوع ہو تو دوسری عورت کا دودھ بھی پلایا جا سکتا ہے۔

لندن میں ڈاکٹر نیٹیلی شینکر نے ’ہیومن ملک فاؤنڈیشن‘ کے نام سے ایک ’ملک بینک‘ کا آغاز کیا۔ جو عطیہ کردہ دودھ کو جمع کرکے محفوظ کرتی ہے اور بوقت ضرورت مطلوبہ بچوں تک اس کی فراہمی یقینی بناتی ہے۔

بچوں کے مختلف عالمی اداروں نے بھی مختلف کیٹگری بنائی ہیں۔ کچھ کے خیال میں بچے کو چھ ماہ تک صرف اور صرف ماں کا دودھ دینا چاہیے۔ جب کہ کچھ اداروں کے مطابق چار ماہ کے بعد بچے کو اضافی خوراک شروع کرانا چاہیے۔

یہ مختلف علاقوں پر منحصر ہے کہ وہاں ثقافتی اور مذہبی حوالے سے کتنا عرصہ بچے کو ماں کا دودھ پلانے کی گنجائش موجود ہے۔ افریقہ میں عورتیں چار سال تک بچے کو اپنا دودھ پلاتی ہیں اور اسلامی ممالک میں تقریباً دو سے ڈھائی سال کی میعاد کا حکم ہے۔ جب کہ برطانیہ میں یہ بچے پر منحصر ہے کہ وہ کب تک دودھ پیتا ہے۔ اوسطاً یہ میعاد تقریباً تیس ماہ بنتی ہے۔

حمل کے دوران ہی دودھ بننا شروع ہوجاتا ہے اور پیدائش کے چوبیس گھنٹوں کے اندر اندر اس کا اخراج شروع ہوتا ہے۔ بچے کے ماں کی چھاتی کو چوسنے کے بعد یہ عمل تیز ہوتا ہے۔ شروع کے تین دنوں میں کلوسٹرم بنتا ہے جو سیال ہوتا ہے۔

اس کے بعد جیسے جیسے نوزائیدہ بچہ دودھ پیتا ہے زیادہ دودھ بننا شروع ہوتا ہے۔ اس تمام عمل میں پروجیسٹیرون اور پرولیکٹین ہارمون کا بہت اہم کردار ہے۔ یہ ہارمون دودھ کی فراہمی کے ساتھ ساتھ ماں کے اعصابی نظام کو بھی کنٹرول رکھتے ہیں۔

کلوسٹرم غذائیت سے بھر پور ہوتا ہے۔ اکثر ماؤں میں یہ غلط فہمی پائی جاتی ہے کہ شروع کے دنوں کا دودھ گندہ ہوتا ہے اس لیے اسے نکال کر پھینکا جاتا ہے۔

سوچنے کی بات یہ ہے کہ بکری اور بھینس کے دودھ کا کلوسٹرم خود کھایا جاتا ہے کیونکہ اسے اچھا مانا جاتا ہے تو ماں کا یہ دودھ کیسے خراب ہے۔ بچے کو اپنا دودھ نہ پلانے کی کئی وجوہات ہیں۔ جن میں ماڈرنزم اور مختلف بیماریاں اہم ہیں۔ ایچ آئی وی وائرس اور ٹی بی میں مبتلا مریض اپنے بچوں کو دودھ نہیں پلاسکتیں مگر باقی بیماریوں میں کوئی بندش نہیں۔

ماں کے دودھ میں بچے کی غذائی ضروریات مناسب مقدار میں موجود ہونے کے ساتھ اور کئی فائدے بھی ہیں۔ اس میں مختلف بیماریوں کے خلاف قدرتی طور پر اینٹی باڈیز شامل ہیں جو متعدد بیماریوں کے خلاف ویکسین کا کام کرکے قوت مدافعت بڑھاتی ہیں۔ جن میں خسرہ، روبیلا، چکن پوکس، تشنج، خنّاق، کالی کھانسی اور انفلوئنزا شامل ہیں۔

یہ مختلف قسم کے انفیکشن اور الرجی سے بھی بچوں کو محفوظ رکھتا ہے۔ جیسے اسہال، پیٹ درد، ایگزیما اور دمہ وغیرہ شامل ہیں۔ بچے کو گیس اور قبض کی شکایت بھی نہیں ہوتی۔ جسمانی نشوونما کے ساتھ ایسے بچوں کا دماغ اور آئی کیو لیول بھی دوسرے کی نسبت تیز ہوتا ہے۔

ماں کا دودھ پلانے کا عمل ماں کے لیے بھی بے شمار فوائد کا سبب بنتا ہے۔ اس کے لیے اضافی خرچ کی ضرورت نہیں پڑتی۔ ہر وقت دستیاب ہے۔ اس کی تیاری کا کوئی مرحلہ نہیں ہوتا اس لیے وقت کی بچت ہوتی ہے۔ اس میں گندگی کا احتمال بھی نہیں ہوتا۔ قدرتی طور پر دو حمل کے درمیان مناسب وقفہ پیدا ہو جاتا ہے۔

دودھ پلانے والی ماؤں میں، بچہ دانی اور چھاتی کا کینسر ہونے کے امکانات بہت کم ہوتے ہیں۔ چھاتی کے سرطان سے ہونے والی سالانہ 20 ہزار ماؤں کی شرحِ اموات میں کمی ممکن ہے۔ دوران پیدائش دودھ پلانے کے عمل سے آنول کی پیدائش میں آسانی ہوسکتی ہے۔

جسم کی زائد چربی ختم ہوتی ہے۔ دوران حمل بڑھا ہوا وزن قدرتی طور پر کم ہو جاتا ہے۔ خوراک پر غیر معمولی توجہ کی وجہ سے جلد ہی خون کی کمی دور ہوجاتی ہے۔ ماؤں میں ذہنی دباؤ، ہائی بلڈ پریشر، جوڑوں میں درد، کولیسٹرول کا بڑھنا، امراضِ قلب، ذیابطیس اور زچگی کے بعد مخصوص دِنوں سے زائد عرصے تک ماہواری سے بھی بچاؤ ممکن ہے۔

جب کہ بوتل سے دودھ پینے والے بچوں میں انفیکشن کی شرح بڑھ جاتی ہے۔ کیوں کہ ہر بار دودھ پلانے کے بعد بوتل کا اچھی طرح دھونا اور سٹرلائز کرنا مشکل امر ہے۔

’فارمولا دودھ‘ گو کہ زیادہ تر گائے کے دودھ سے تیار کیا جاتا ہے مگر پھر بھی یہ ماں کے دودھ کا نعم البدل نہیں۔ اس کی غذائیت میں کمی پیشی کا امکان موجود رہتا ہے اور ہر وقت اسے ساتھ رکھنا بھی مشکل ہوجاتا ہے۔

ورلڈ الائنس فار بریسٹ فیڈنگ ایکشن اور یونیسیف کے مشترکہ تعاون سے ہر سال دنیا بھر میں 1تا 7 اگست کو ماں کے دودھ کی اہمیت کے بارے میں آگاہی کا ہفتہ منایا جاتا ہے۔ پہلی بار 1992ء میں 120 ممالک میں یہ ہفتہ منایا گیا اور یہ قدم وقت کی اہم ترین ضرورت بھی ہے۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button