جہلم: سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کے بعد دوبارہ 18 سے 20 گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ شروع کر دی گئی، جس سے صارفین کو دن بھر میں صرف 4 سے 6 گھنٹے گیس فراہم کی جا رہی ہے۔ شہری سوئی گیس کی عدم دستیابی پر شدید احتجاج کر رہے ہیں۔
وفاقی حکومت نے چند روز قبل سوئی گیس کی لوڈ شیڈنگ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا، جس کے بعد شہریوں نے سکھ کا سانس لیا۔ اس دوران رات 10 بجے سے صبح 6 بجے تک لوڈ شیڈنگ کی جاتی رہی اور دن بھر صارفین کو گیس فراہم کی جاتی رہی۔ تاہم چند ہی دنوں بعد ایک بار پھر 18 سے 20 گھنٹے کی طویل لوڈ شیڈنگ شروع کر دی گئی، جس نے شہریوں کی مشکلات میں اضافہ کر دیا ہے۔
جہلم شہر کے مختلف علاقوں میں گیس کی فراہمی معطل کرنے کے لیے سوئی گیس چیک وال بند کرنے کی اطلاعات بھی موصول ہوئی ہیں، جس سے صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔
شہریوں نے گیس کی طویل لوڈ شیڈنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت وافر مقدار میں گیس موجود ہونے کے باوجود لوڈ شیڈنگ کر کے عوام کو اذیت میں مبتلا کر رہی ہے۔
عوامی حلقوں نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف اور وفاقی وزیر پٹرولیم سردار اویس لغاری سے مطالبہ کیا ہے کہ فوری طور پر گیس کی لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا جائے اور عوام کو بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں۔ سیاسی اور سماجی حلقوں نے بھی حکومت سے سوئی گیس کی بلاتعطل فراہمی یقینی بنانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔


