جہلم: تحصیل آفس میں کرپشن، کمیشن اور ٹاؤٹ مافیا کا راج،رجسٹری اور انتقال کے لیے بھاری رشوت کا تقاضا، تحصیلدار رجسٹری محرر اور ٹاؤٹوں کے ذریعے اپنا حصہ وصول کرنے لگا، نائب قاصد بھی دیہاڑیاں اور بڑے صاحب کا حصہ وصول کرنے میں مصروف، سائلین پریشانی کا شکار ہیں۔
ذرائع کے مطابق جہلم کا تحصیل آفس کرپشن کڑھ بن گیا ہے، ڈپٹی کمشنر نے چند ماہ قبل رجسٹری محرر تو تبدیل کیے لیکن اس سے کرپشن اور کمیشن کا خاتمہ نہ ہوسکا بلکہ مزید کرپشن بڑھ گئی ہے۔
تحصیل آفس رجسٹری اور انتقالات کے لیے آنے والے سائلین ،خواتین اور بزرگوں کو کئی کئی گھنٹے انتظار کروایا جاتا ہے۔ رجسٹری محرر اور تحصیلدار نے نذرانے وصول کرنے کے لیے ٹاؤٹ رکھے ہوئے ہیں جو ہروقت رجسٹری محرر کے دفتر کے باہر دکھائی دیتے ہیں، رشوت نہ دینے والے سائلین کو کئی کئی گھنٹے اور کئی کئی روز تک چکرلگوائے جاتے ہیں،لوگ مجبورا پیسے دیکر کام کرواتے ہیں۔
شہریوں نے وزیراعلی پنجاب سے تحصیل آفس کے عملے کے خلاف کارروائی اور نوکری سے برطرف کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔



یہ نظام پاکستان سے کبھی ختم نہیں ہو گا کیونکہ جنوں نے یہ نظام ختم کرنا ہے وہ بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں ان کو ان کا حصہ مل جائے تو ان ایکشن لینے کی کیا ضرورت ہے غریب کی کوئی سنائی نہیں اس نظام میں ایک انتقال کے 40 سے 50 ہزار روپے دے کر بھی تین چار چکر لگانے پڑتے ہیں پھر جا کر کسی سیاسی پارٹی کے نمائندے کی سفارش لگے گی تو کام ہو گا نہیں تو یہ لوگ یہ کہتے ہیں کہ آج صاحب نہیں بیٹھ آج صاحب کی تحریک ہے اتنے پیسے دے کر بھی اس ملک میں سفارش کی بہت ضرورت ہے پھر جا کر آپ کا کام ہو گا 15سے 20 دن بعد اس نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے اور یہ بدلنے والا اس ملک میں کوئی نہیں ہے اللہ پاک میرے اس ملک پر اپنا کرم فرمائے اور اس ملک کو کوئی نیک حکمران عطا فرمائے آمین
ہاں جی