جہلم اور اس کی چاروں تحصیلوں میں مون سون کی بارشوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔ اتوار کی علی الصبح ہونے والی موسلا دھار بارش نے شہر سمیت دیہی و شہری علاقوں کو جل تھل کر دیا۔ بارش کے باعث متعدد نشیبی علاقے اور اہم سڑکیں زیرِ آب آ گئیں، جس سے شہریوں کو آمد و رفت میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
بارش کا پانی کئی علاقوں میں گھروں اور دکانوں میں داخل ہو گیا، جس سے شہریوں کو مالی نقصان اور ذہنی پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ سڑکوں پر پانی جمع ہونے کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوئی اور کئی مقامات پر گھنٹوں گاڑیاں پھنسی رہیں۔
شہریوں نے ضلعی انتظامیہ، بالخصوص ڈپٹی کمشنر جہلم سے مطالبہ کیا ہے کہ نکاسی آب کے نظام کی بہتری کے لیے فوری اقدامات کیے جائیں۔
عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ شہر میں لاکھوں، کروڑوں روپے کی لاگت سے سیوریج نالے اور ڈرینیج سسٹم تعمیر کیے گئے، اس کے باوجود بارش کا پانی گھروں اور بازاروں میں داخل ہونا متعلقہ محکمے کی کارکردگی پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ نکاسی آب کے ناقص انتظامات مون سون کے ہر موسم میں عوام کے لیے دردِ سر بن جاتے ہیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ ڈپٹی کمشنر فوری نوٹس لیں اور واسا یا متعلقہ اداروں کو فعال کر کے نکاسی آب کے نظام کو مؤثر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسی صورتحال سے بچا جا سکے۔


