یورپ میں مسلمانوں کو نفرت سے بچانے کیلئے سرکاری سطح پر مہم شروع

یورپ میں مسلمانوں کو نفرت سے بچانے کیلئے سرکاری سطح پر مہم شروع کردی گئی ہے تاکہ اسلاموفوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات کو روکا جاسکے۔

میڈیا رپورٹ کے مطابق اسرائیل حماس جنگ کے آغاز کے بعد اسلامو فوبیا کے بڑھتے ہوئے واقعات میں کمی لانے کے لیے یورپ بھر میں حکام نے قانون نافذ کرنے والے اداروں پر زور دیا ہے کہ وہ مسلمانوں کے خلاف نفرت پر مبنی ہونے والے جرائم کے خلاف اور ان کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہ چھوڑیں۔

مذکورہ بیان پر 10 یورپی ممالک کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ یورپی یونین کے حکام نے بھی دستخط کیے ہیں، نفرت انگیز جرائم و تقاریر اور شہری آزادی کو لاحق خطرات کی بڑھتی ہوئی تعداد کو نوٹ کیا ہے، جنہوں نے حالیہ مہینوں میں یورپ بھر میں مسلم اور یہودی کمیونٹیز کو نشانہ بنایا ہے۔

پُرتشدد واقعات میں مسلم اور یہودی کمیونٹیز دونوں کو جسمانی اور زبانی حملوں کا نشانہ بن چکے ہیں، جس کی وجہ سے لوگ زیادہ سے زیادہ خود کو غیر محفوظ محسوس کررہے ہیں۔

اسلامو فوبیا کے حوالے سے یورپی ممالک کے نمائندوں نے کہا کہ انہیں مسلمانوں کے لیے گہری تشویش ہے، اگر توجہ نہ دی گئی تو، ہمارے معاشروں میں سماجی ہم آہنگی کو خطرہ لاحق ہوسکتا ہے اور کمزور کمیونٹیز کو مزید نقصان پہنچ سکتا ہے۔

یورپی یونین کے بیان میں مشرق وسطیٰ میں تنازعات کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا ہے بلکہ موجودہ جغرافیائی سیاسی تناظر کا حوالہ دیا گیا ہے۔ حال میں ہی گیئرٹ وائلڈرز کی اسلام مخالف جماعت ہالینڈ میں سب سے بڑی جماعت بن گئی ہے، جس کی وجہ سے مسلمانوں میں خوف پیدا ہوگیا ہے۔

ایک غیر سرکاری تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے یورپ میں بڑھتی ہوئی یہودی دشمنی اور مسلم مخالف نفرت پر گہری تشویش کی جانب اشارہ کیا ہے، جبکہ ابھی تک یورپی یونین کی حکومتوں کا ردعمل جزوی اور غیر موثر رہا ہے۔

ان کے پاس امتیازی سلوک کے خلاف مناسب اعداد و شمار اور تحفظ کی حکمت عملیوں کا فقدان ہے، جو یہودی اور مسلمان لوگوں کو درپیش امتیازی سلوک کے روزمرہ کے تجربات سے نمٹنے کے لیے ہیں۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button