جہلم میں شہریوں کو جعلی ڈرائیونگ لائسنس تیار کر کے دینے والا ملزم گرفتار کر لیا گیا، پولیس نے ملزم کے ساتھی کی تلاش شروع کر دی۔ جعلی لائسنس، جعلی مہریں اور دیگر سرکاری کاغذات برآمد کر لئے گئے۔
تفصیلات کے مطابق ٹریفک دفترجہلم کے ذمہ داران میٹھی لسی پی کر خراٹے لینے لگے، پیٹی بھائی ساتھیوں کو تحفظ دینے کے لئے میدان میں اتر آئے۔ ٹریفک دفتر کی بغل میں ڈرائیونگ لائسنس کے حصول کیلئے آنے والے پڑھے لکھے نوجوان امیدواروں کو اپنے جال میں کون پھنساتا اورکون کتنے پیسوں میں ڈیل کرتالائسنس کے اصلی ہونے کی گارنٹی کون دیتا۔
موٹر سائیکل موٹر کار ،ایل ٹی وی، ایچ ٹی وی لائسنس کے کیا ریٹ مقررکررکھے تھے اور کتنے ہزار فی امیدوار سے وصول کیے جاتے ، ڈرائیونگ لائسنس کے مک مکا میں کون کون پردہ نشین شامل تھا چند ماہ میں ٹولے نے کتنے سو لائسنس لاہور سے ناتجربہ کار ڈرائیورز کوجاری کروادیے۔
48گھنٹوں میں لائسنس گھر پہنچانے کے کتنے پیسے وصول کیے جاتے رہے، شکار پھنسا کردینے والے اہلکاروں کو فی لائسنس کتنی رقم ادا کی جاتی ،ہفتے میں کتنی دفعہ ہائی ایس گاڑی پڑوسی ضلع چکوال کی سڑکوں پر رقص کرتی رہی۔ لائسنسنگ برانچ جہلم کے اہم پرزے شبیر عرف شیرا نے ٹریفک پولیس کے کن شرفاء سے معاملات طے کررکھے تھے؟۔
تھانہ صدر پولیس نے شبیر عرف شیرا کو گرفتار کر لیا جبکہ اس کا ساتھی مالک نامی فراڈیئے کی تلاش جاری ہے۔ پولیس نے بے شمارتیار جعلی لائسنس،ایم بی بی ایس ڈاکٹر کی جعلی مہریں اور دیگر سرکاری کاغذات بھاری مقدار میں دوران تفتیش برآمد کر لی گئیں۔
تھانہ صدر کے ایس ایچ او ملک نثار نے تفتیش کا دائرہ کاروسیع کرلیا، مزید چیلوں کی گرفتاریاں متوقع ،جعل سازوں میں کھلبلی مچ گئی۔
شہری تنظیموں کے عمائدین نے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سے جعلسازوں کی سرپرستی کرنے والے ٹریفک پولیس کے ذمہ داران کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کردیا۔


