جہلم شہر اور گردونواح میں کیمیکل ملے دودھ کی سپلائی کا دھندہ عروج پر پہنچ چکا ہے۔
روزانہ کی بنیاد پر ٹینکرز اور بڑی ڈرموں والی گاڑیاں دودھ سے بھری ہوئی شہر میں داخل ہو رہی ہیں۔ اگر تحصیل جہلم میں صرف بھینسوں اور گائے کا خالص دودھ اکٹھا کیا جائے تو بمشکل دو سے تین گاڑیاں بھی نہ بھر سکیں، لیکن اس کے باوجود روزانہ کئی گاڑیاں شہر میں سپلائی کی جا رہی ہیں۔ یہ صورتحال پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارکردگی پر گہرے سوالیہ نشان لگا رہی ہے۔
جہلم شہر سمیت ملحقہ علاقوں میں کیمیکل ملے دودھ کی فروخت کا دھندہ نہ صرف عام ہے بلکہ شہریوں کے لیے صحت کے مسائل پیدا کر رہا ہے۔ مہنگائی کے باعث شہری مجبوراً اس ملاوٹ شدہ دودھ کو خریدنے اور استعمال کرنے پر مجبور ہیں، جو ان کی صحت کے لیے خطرناک ثابت ہو رہا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ ڈی جی پنجاب فوڈ اتھارٹی، کمشنر راولپنڈی اور ڈپٹی کمشنر جہلم اس سنگین مسئلے کا فوری نوٹس لیں اور پنجاب فوڈ اتھارٹی کے ذمہ داران کو اس دھندے کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کرنے کا پابند کریں۔ اس کے ذریعے نہ صرف ملاوٹ کا خاتمہ ہوگا بلکہ شہری بیماریوں سے بھی محفوظ رہ سکیں گے۔


