لندن: انگلینڈ اور ویلز میں ایسے شدید بیمار اور تکلیف میں مبتلا افراد جنہیں ڈاکٹر جواب دے دیں، انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کا حق دینے کے حوالے سے بل رواں ماہ پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا۔ ایڈملی بینڈ نے بل کی حمایت جب کہ ٹینی گرے تھامسن نے مخالفت کردی،2015میں اس بل کو پارلیمنٹ نے مسترد کردیا تھا۔
بل کی محرک لیبر رکن پارلیمنٹ کم لیڈ بیٹر نے کہا ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ طبی معاونت کے ذریعے زندگی ختم کرنے کے حوالے سے بحث کی جائے۔2015میں اس معاملے پر بل کو اراکین پارلیمنٹ نے مسترد کر دیا تھا، وزیراعظم سرکیئر اسٹارمر پہلے ہی یہ وعدہ کر چکے ہیں کہ اراکین پارلیمنٹ پارٹی پالیسی کی بجائے اپنی مرضی سے ووٹ دے سکیں گے۔
لیبر ایم پی کم لیڈ بیٹر نے کہا ہے کہ اس بل کی منظوری سے بالغ افراد کو یہ حق ملے گا کہ اگر وہ موت کے قریب ہیں تو موت کا انتخاب کر سکتے ہیں۔ اس بل کے تمام مندرجات ابھی سامنے نہیں آئے لیکن امکان ہے کہ یہ بل ہاؤس آف لارڈز میں اس تجویز کے مطابق پیش ہوگا کہ اگر بالغ افراد کو ڈاکٹروں نے چھ ماہ یا اس سے کم مدت کا وقت دیا ہے تو وہ موت کے حصول کیلئے طبی مدد حاصل کر سکیں گے۔
توقع ہے کہ پارلیمنٹ میں یہ بل 16 اکتوبر کو پیش کیا جائے گا اور سال کے آخر میں اس پر بحث ہوگی۔ بل کو قانون بننے کیلئے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں سے منظوری درکار ہوگی۔
انرجی سیکرٹری ایڈ ملی بینڈ نے کہا ہے کہ موجودہ قانون ظالمانہ ہے اور وہ اس بل کے حق میں ووٹ ڈالیں گے اور مناسب حفاظتی اقدامات کے ساتھ ایسا کرنا درست ہوگا۔
سابق پیرالمپین بیرونس ٹینی گرے تھامسن نے کہا ہے کہ وہ اس کی مخالفت کرینگی کیونکہ اس کے ناتواں اور معذور افراد پر گہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں اور کسی کی چھ ماہ میں موت کے حوالے سے ڈاکٹروں کی تشخیص پر بھی تحفظات ہیں۔ فی الحال انگلینڈ، ویلز اور ناردرن آئرلینڈ میں کسی شخص کی زندگی ختم کرنے میں مدد کرنا جرم ہے اور اس کی سزا 14 برس جیل کی سزا ہے۔
فی الحال شدید بیمار اور تکلیف میں مبتلا افراد قبل ازوقت موت کے حصول کیلئے سوئٹزرلینڈ کا رخ کرتے ہیں جہاں شدید بیمار افراد کو مرنے میں معاونت کرنا قانون ہے لیکن اس کیلئے ایک معقول رقم اور سفر کرنے کے قابل ہونا بھی شرط ہے۔


