دینہ: سید دلیر حسین شاہ بخاری نے کہا کہ تحفظ نسب سادات اور غریب و ضرورت مند سادات کی فلاح و بہبود کے لیے حکومتی سطح پر سنجیدہ اقدامات اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔
تحریک تحفظ ختم نبوت و مخدومہ کائنات پاکستان کے بانی و مرکزی چیئرمین بیرسٹر سید دلیر حسین شاہ بخاری سجادہ نشین دربار عالیہ غازی کشمیر نے کہا کہ وہ سادات اکرام جو غربت کی زندگی گزار رہے ہیں، ان کے لیے خصوصی اقدامات کیے جائیں کیونکہ آل نبی اور اولادِ علی پر صدقہ، زکوٰۃ اور خیرات لینا حرام ہے جبکہ جعلی سادات کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے جو کہ ایک سنگین مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔
سید دلیر حسین شاہ بخاری نے اس بات پر زور دیا کہ جو چیریٹی اور ویلفیئر ٹرسٹ چلاتے ہیں، ان میں سے بیشتر کو سادات کے مقام و مرتبے کا ادراک نہیں ہے۔ ان اداروں کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ سادات پر صدقہ، زکوٰۃ اور خیرات لینا ممنوع ہے۔ سفید پوش سادات کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلاتے، جبکہ کچھ سادات جو مختلف آستانوں سے منسلک ہیں اور بڑی بڑی ویلفیئر ٹرسٹ چلا رہے ہیں، انہوں نے بھی کوئی ایسا نظام متعارف نہیں کروایا جس کے تحت سادات کی امداد صدقہ و زکوٰۃ سے ہٹ کر کی جا سکے۔
انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ جس طرح زکوٰۃ کمیٹی موجود ہے، اسی طرز پر ایک سادات خدمت کمیٹی قائم کی جائے جو کہ ضرورت مند سادات کی کفالت کرے اور انہیں عزت و احترام کے ساتھ مالی مدد فراہم کرے۔
سید دلیر حسین شاہ بخاری نے مزید کہا کہ تحفظ نسب سادات کے حوالے سے کئی تنظیمیں کام کر رہی ہیں، مگر ان میں سے زیادہ تر کا کوئی عملی کردار نظر نہیں آ رہا۔ انہوں نے تجویز دی کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیتے ہوئے پارلیمنٹ میں ایک بل پیش کیا جائے تاکہ تحفظ نسب سادات کو قانونی شکل دی جا سکے۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ خاص طور پر وہ سادات جو اس وقت پارلیمنٹ کے ممبر ہیں، ان کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کو قانون سازی کے ذریعے حل کروانے میں اپنا کردار ادا کریں۔
سید دلیر حسین شاہ بخاری نے امید ظاہر کی کہ حکومت اور متعلقہ ادارے اس اہم مسئلے پر توجہ دیں گے اور سادات کے مسائل کے حل کے لیے جلد عملی اقدامات کیے جائیں گے۔


