ضلع جہلم میں سیاسی رہنماؤں کی لڑائی، مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا لگنے کا امکان

جہلم: پاکستان مسلم لیگ ن کی مقامی قیادت کے آپسی اختلافات کی وجہ سے ضلع بھر میں پارٹی کو سیاسی نقصان پہنچنے کے خدشات جنم لینے لگے۔

پارٹی ذرائع کے مطابق ضلع جہلم میں سیاسی رہنماؤں کی لڑائی کیوجہ سے مقامی سیاست میں مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا لگنے کا امکان ہے۔

ذرائع کا یہ کہنا ہے کہ مسلم لیگ ن کے مقامی رہنماؤں جن میں سابق ممبر صوبائی اسمبلی چوہدری ندیم خادم، سابق ایم این اے راجہ مطلوب مہدی ،جو پی ٹی آئی کے دورِ اقتدار میں فرنٹ فٹ پر موجود رہے اور کارکنوں کی سرپرستی کرتے دکھائی دیئے۔

عدم اعتماد کے موقع پر پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے سابق ایم این اے چوہدری فرخ الطاف نے پاکستان مسلم لیگ ن کا ساتھ دیا جس کی وجہ سے پی ٹی آئی کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی جبکہ دوسری جانب سابق مشیر وزیراعظم پاکستان راجہ بلال اظہر کیانی کی مسلم لیگ ن میں شمولیت سے جبکہ این اے 61 میں عابد اشرف جوتانہ کے مسلم لیگ ن میں شامل ہونے سے گومگو کی کیفیت پیدا ہو چکی ہے ۔

راجہ بلال اظہر کیانی ، چوہدری ندیم خادم، چوہدری فرخ الطاف قومی اسمبلی کے حلقہ این اے 60 سے الیکشن میں حصہ لینے کے لئے مہم شروع کئے ہوئے ہیں جبکہ حلقہ این اے 61 سے راجہ مطلوب مہدی ، عابد اشرف جوتانہ ، سید شمس حیدر بھی انتخابی مہم شروع کئے ہوئے ہیں جس کی وجہ سے پاکستان مسلم لیگ ن ضلع جہلم کا سیاسی مستقبل بھی خدشات کا شکار ہے۔

پاکستان مسلم لیگ ن کی مرکزی قیادت پر کڑے امتحان کا وقت جوں جوں قریب پہنچ رہا ہے توں توں مسلم لیگ ن کے اندر سے اگر ٹکٹ نہ ملا تو آزاد حیثیت سے بھی آمدہ انتخابات میں ہر حال میں حصہ لیں گے کی آوازیں آنا شروع ہو چکی ہیں جس سے مسلم لیگ ن کو بڑا جھٹکا لگنے کا اندیشہ ظاہر کیا جا رہاہے ۔

یہ بھی پڑھنا مت بھولیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button